ہم نے اپنے پر کرفیو لگا لیا بینی پایو ٹوکیو کی کانفرنس میں ہمارے ساتھ تھے یہاں ان کا بہت بڑا مطبع اور نشرد اشاعت کا کارخانہ ہے یہاں کی وائی ایم سی اے کے بھی نائب صدر یا سکتر وغیرہ ہیں منیلا کی خوبصورت خلیج کے ساتھ ساتھ عالی شان اور خوش وضع عمارتیں دیکھتے شہر کو چلے روزہ ہمارا دیگر دنوں کی طرح اتفاق سے اس روز بھی نہیں تھا لہذا خوش چہرہ اور خوش ادا حسیناؤں کے چہروں پر بھی اچٹتی اور غیر اچٹتی نظریں ڈالتے جا رہے تھے کا کہ کفران نعمت نہ ہو ہمارا ہاتھ بے خیالی میں تھوڑا کار کی کھڑکی سے باہر نکل گیا ممکن ہے کسی کی مسکراہٹ کے جواب میں ہمارے سلام کرنے کی کوشش میں ایسا ہو گیا ہو بہر حال، بینی پایو صاحب نے فورا ڈانٹا کہ ہاتھ اندر کرو، ہم نے کہا، غلطی ہو گئی واقعی ایکسیڈینٹ ہونے اور ہاتھ کو گزند پہچنے کا اندیشہ ہے کراچی میں ایک شخص نے اسی بس کی کھڑکی سے ہاتھ باہر نکالا تھا، بولے اس قسم کے حادثے کی بات نہیں کر رہا یہاں کے با کمال ہاتھ مار کر گھڑی اتار لیتے ہیں، چلتی کار میں جاتے مسافر کی بھی، جی ہاں ہم نے اس کو بتایا کہ کراچی میں ایک جرمن ایشیائیوں سے ہمارے تعلقات خراب کرنے کے لئے یہ یہ، کہہ رہا تھا، بولے ٹھیک کہہ رہا تھا اور دیکھو شام کو چہل قدمی کا شوق ہے تو اسے کراچی واپس جا کر پورا کرنا، تمہارے ہوٹل کے آس پاس جو باغ ہے آب و ہوا تو اس کی اچھی ہے لیکن اگر اس میں کوئی تم سے بات کرنے کی کوشش کرے سگرٹ جلانے کے لئے ماچس مانگے یا دعوت گناہ و ثواب دے تو اپنا پڑھا لکھا ۔۔۔ لینا وہاں تمہیں ایسے شوخ اور طنار حسین بھی نظر آئیں گے کہ تمہارا جی لوٹ جائے لیکن ان سے میں سے بیشتر لڑکے ہیں لڑکیوں کا بھیس بنائے ہوئے ہیں ٹورسٹ کو بہکا پھسلا کر اپنے ساتھ لے جاتے ہیں اور پھر سب کچھ لوٹ کر دھکا دے دیتے ہیں، ہم نے کہا پولیس تو ہو گی لوگوں کے جان و مال کی حفاظت کے لئے ہم بے راہ ردی کے لئے احتیاطاً تھوڑی سی گنجائش رکھنا چاہتے تھے ہنس کر بولے وہ ان لوگوں کے ساتھ ملی ہوئی ہے تو گویا جہاں جائے آدمی اکیلا نہ جائے کسی فلپائنی دوست کے ساتھ جائے فرمایا ایسا فلپائنی دوست کہاں ملے گا؟ جو ہمہ وقت آپ کی مصاحبت کرے پھر بعض علاقوں میں تو شام کے بعد بھی جانے کی ہمت نہیں، ہم نے کہا تم نے نے تو ہمیں ڈرا دیا ہم پیدل چلیں گے ہی نہیں ہمیشہ ٹیکسی میں جائیں گے، بولے ٹیکسی والے ہی تو ان جرائم پیشہ گردہوں کے ایجنٹ ہیں، یہی تو مسافروں کو گھیر کر لے جاتے ہیں ۔ لہذا خواتین و حضرات ہر چند کہ ہمارا ایک ہفتہ وار یہاں قیام ہے لیکن ہمارا منیلا کا سفر نامہ اس سے آگے چلتا نظر نہیں آتا جب ہم اپنے پر کرفیو لگا کر ہوٹل کے کمرے میں مقید ہو بیٹھیں گے تو لکھیں گے کیا؟ کہ اس بات پر اتنی استطاعت نہیں کہ اپنے ساتھ مسلح گارد رکھیں ۔ آج پبلک لائبریری کے نیچے برتنوں اور ریفریجریڑو ں وغیرہ کی ایک نمائش میں جانے کا اتفاق ہوا دیکھا کہ وہاں بھی ہر اسٹال پر محافظ اسٹین گن لئے کھڑے ہیں شام کو ایک پاکستانی دوست نے فون پر ہمیں یاد فرمایا ہم نے کہا، ہم نے کہا جناب آپ خود تشریف لا کر ہمیں ہوٹل سے اپنے ساتھ لے جائیں تو بندے کو عذر نہیں، چنانچہ وہ لے گئے اچھی خاطر عاطر کی وہاں بھی انھوں نے اور ان کی بیگم نے جو خاصے دنوں سے یہاں ہیں، ایسے قصے سنائے کہ ہماری گھگی جو اب تک نہ بندھی تھی، بندھ گئی، انھوں نے کچھ معزز پاکستانیوں کا قصہ سنایا کہ ٹوکیو جاتے ہوئے ایک شب کو منیلا میں ٹھہر گئے تھے لمبے تکڑے جوان تھے شام کو شہر کی سیر کو نکل پڑے ایک بار نظر آئی اس میں گھس گئے بار میں رومانی فضا پیدا کرنے کے لئے نیم تاریکی کا انتظام رہتا ہے اور پھر مسافر نوازی کے دیگر انتظامات بھی ہوتے ہیں ایک دو، دو پیک کے بعد ا ٹھنے لگے تو ساتھی دوشیزائیں گلے کا ہار ہو گئیں کہ صاحبو بھی سے کہاں جاتے ہو۔ روئے گل سیر ندیدیم و بہار آخر شد پھر کچھ ٹھہر گئے اور تماشے اہل کرم دیکھا آخر جب گیارہ بجے برآمد ہوئے اور تھوڑی دور جا کر سود و زیاں کا حساب لگانے کے لئے جیبوں میں ہاتھ ڈالے تو کیا دیکھتے ہیں کہ بٹوے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ یہیں قارئین کرام آپ کا اندازہ غلط ہے بٹوے غائب نہیں فقط ان میں سے رقمیں غائب تھیں کسی کے سو پانڈ گئے کسی کے دو سو پونڈ ہمیں خبر ملی تو چندہ کر کے ان کو زاد راہ کے لئے چند ڈالر دیئے گئے یہ ہمارے دوست کچھ عرصے پیکنگ میں بھی رہتے تھے ان کا کہنا ہے کہ وہاں ہماری عادتیں خراب ہو گئی تھیں نہ کبھی سوٹ کیس بند کئے نہ گھر کو تالا کیا معنی کنڈی لگائی جب چاہو جہاں چاہو گھوم آؤ نہ سامان کی فکر نہ بچوں کے متعلق کوئی اندیشہ یہاں چند ہی دن میں پے در پے نقصان اٹھانے کے بعد احساس ہوا کہ ہم کمیونسٹ معاشرے میں نہیں آزاد دنیا میں ہیں اور فلپائن تو خیر سے اخلاق کے علاوہ سیاسی طور پر بھی ایسی آزاد دنیا ہے کہ ان کے مائی باوا امریکہ نے تو فقط چین ہی کو تسلیم نہیں کیا اور روس کے علاوہ چیکو سلوویکیا، پولینڈ، ہنگری، رومانیہ، یو گو سلاویہ، وغیرہ کو بھی نہیں تا کہ انمیں سے کسی ربط ضبط کی آلائش سے آزادی کو گزند نہ پہنچے ۔ ہمارے احباب جانتے ہیں کہ ہم نے قدرت سے ایسا نرم اور گراز دل پایا ہے کہ رات کو بھوت کا کوئی قصہ سن لیں یا کہانی پڑھ لیں تو بعض ضروری حاجات کے لئے بھی بستر سے باہر نہیں نکل پاتے یہ تو پھر چوروں اور گرہ کٹوں اور بدمعاشوں کے قصے تھے بھوت پریت تو فقط ڈراتے ہیں وہ بھی ڈرنے والوں کو چاقو خنجر اور آتشیں اسلحہ کا استعمال نہیں کرتے لہذا قدرتی تھا کہ ہمارے یہ وست یہ سارے قصے بیان کرنے کے بعد ہم سے کہتے کہ اشھا اب اپنے ہوٹل جاؤ تو ہم جانے سے انکار کر دیتے ہم نے کہا، میاں خدا کا خوف کرو اس اندھیرے میں ہمیں تنہا بھیجتے ہو؟ بولے حوصلہ کرو۔ نشان مرد مومن با تو گویم چو مرگ آید تبسم بر لب اوست ہم نے کہا یہ وہ خوف نہیں جو اقبال کے شعروں سے دور ہو جائے لیکن خیر ہم نے غلطی کی کہ ٹیکسی ڈرائیور کا تن و توش نہ دیکھا ٹیکسی میں تھوڑی دور جانے پر غور کیا تو چہرے پر جرم اور سیہ کاری کی لکیریں صاف نظر آئیں ٹیکسی نکالی بھی اس ویران راستے سے اور ہونٹوں پر بھی اس کے شیطنت آمیز مسکراہٹ تھی ہم نے جتنی دعائیں یاد تھیں پڑھنی شروع کیں لیکن ایک بھی پوری نہ پڑھی گئی، اضطراب کے باعث بیچ ہی میں بھول جاتی تھی آخر جب اپنے ہوٹل کا چہرہ نظر آیا تو ہم نے حیات تازہ پائی، میٹر میں ۵۵ سنتا دو ہوئے تھے ہم نے ایک پیسو اسے دیا اور باقی ۴۵ سنتا دو کے لئے ہاتھ پھیلایا وہ ستمگر بولا، کیا مطلب ٹپ نہیں دو گے ہم نے سیر چشمی سے کہا، ہاں ہاں ہم بھول ہی گئے تھے بخشیش ہے اور بخشیش رکھ لو ۔