Urdu Safar Nama Japan Ka Saffar Nama (Mufti Taqi Usmani Saab)

Discussion in 'Pakistan Digital Library' started by rubPzai, Sep 19, 2010.

  1. rubPzai Inactive Member

    Message Count:
    6,985
    Likes Received:
    1,012
    Assalam o Alaikum!

    Inshallah umeed karti hoon k Yeh ap k Liye Bohot hi Interested or Faiday Mand hoga Saffar Nama Parhnay ka Maza hi kuch or Hota hai Jiska Ap Khud Andaza karsaktain hain..





    دس روز جاپان میں......مفتی محمد تقی عثمانی
    [IMG]
    [IMG] [IMG] [IMG] گیارہ سال پہلے بھی میں جاپان جا چکا ہوں، جس کا تذکرہ میری کتاب ” دنیا مرے آگے “ میں ” دنیا کے گرد ایک سفر “ کے عنوان کے تحت موجود ہے لیکن اس وقت امریکہ سے واپسی پر راستے کی ایک منزل کے طور پر صرف دو رات ٹوکیو میں رکا تھا اس لئے وہ جاپان کا ایک سرسری اور تعارفی سفر تھا لیکن اس مرتبہ منزل مقصود ہی جاپان تھی اور وہاں دس روز گزارنے کا موقع ملا اور کچھ نئے مقامات دیکھنے کے علاوہ جاپانی زندگی کے کچھ اور پہلو بھی سامنے آئے جن کے تذکرے کیلئے یہ سفر نامہ حاضر ہے۔
    جاپان کے کچھ تاجر دوستوں کی طرف سے تقریباً سال بھر سے یہ فرمائش تھی کہ میں ہفتہ دس دن ان کے ساتھ گزاروں اور ان کے تجارتی مسائل میں شرعی مشورے دینے کے علاوہ عام مسلمانوں سے دعوتی اور اصلاحی خطابات بھی ہوں۔ یہ سفر ٹلتا رہا، یہاں تک کہ میں نے دارالعلوم کے ششماہی امتحانات کے زمانے میں وہاں جانے کا ارادہ کیا اور یکم جمادی الاولیٰ 1429ھ مطابق 7 مئی 2008ء کی رات کو تھائی ایئرویز کے طیارے سے روانگی ہوئی اور بنکاک سے طیارہ تبدیل کیا جس نے اگلے دن جاپانی وقت شام کے 4 بجے کے قریب ( جو پاکستانی وقت سے 4 گھنٹے آگے ہے ) ٹوکیو کے نریتا ایئر پورٹ پر اتارا۔ میرے دوست آصف صاحب جن کا تذکرہ میں اپنے فیجی کے سفر نامے میں کر چکا ہوں، اب جاپان منتقل ہو گئے ہیں اور اس سفر کے اصل محرک وہی تھے، وہ اپنے رفقاء کے ساتھ استقبال کیلئے موجود تھے جن میں مولانا سلمان تھانوی، مولانا انس صاحب اور عتیق صاحب بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ نریتا ایئر پورٹ شہر سے بہت دور ہے اور ہمارے قیام کا انتظام ٹوکیو کے ایک مضافاتی شہر ابینا میں تھا، اس لئے ایئر پورٹ سے قیام گاہ تک کا فاصلہ تقریباً ڈھائی گھنٹے میں طے ہوا۔ راستے میں مغرب کا وقت ہوا تو ہم جاپان کے مشہور صنعتی شہر یوکوہاما کی بندرگاہ کے قریب سے گزر رہے تھے۔ یہاں ایک کئی کلو میٹر لمبا رسوں سے لٹکتا ہوا پل ہے جو کہیں سمندر اور کہیں آبادی پر سے بل کھاتا ہوا گزرا ہے اور بذات خود ایک عجوبہ سمجھا جاتا ہے، اسی پل کے نیچے ایک پارکنگ کا علاقہ ہے جو ایک تفریح گاہ سمجھی جاتی ہے، یہاں ہم نماز مغرب کیلئے رکے اور اوپر نگاہ اٹھائی تو اس بڑے پل کے نیچے خم دار پلوں کا ایک اور جال بچھا ہوا تھا جس پر کاریں مختلف سمتوں میں دوڑ رہی تھیں۔ ایک ایسا منظر جو چند لمحوں کیلئے انسان کو مبہوت کرنے کیلئے کافی ہے۔ موسم میں بڑی خوشگوار خنکی تھی اور تازہ ہوا کے جھونکوں نے جسم و دماغ کو تھوڑی دیر کیلئے تازہ کر دیا۔ عشاء کے قریب ہم قیام گاہ پر پہنچے۔ یہ ایک ریسٹ ہاؤس تھا جو ابینا شہر کے ایک خوبصورت علاقے میں تیسری منزل پر واقع تھا۔ ہمارے میزبان حامد عزیز صاحب نے یہاں کاروں کی خرید و فروخت کیلئے ایک کمپنی قائم کی ہے۔ اس کی خوبصورت عمارت کی تیسری منزل پر انہوں نے یہ کشادہ ریسٹ ہاؤس بنایا ہے جو تمام رہائشی سہولتوں سے آراستہ ہے۔ انہوں نے ہی اس عمارت کے قریب ایک مسجد تعمیر کی ہے جو مدینہ مسجد ابینا کے نام سے معروف ہے۔ جاپان میں مکانات اور تعمیر کے اخراجات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ یہ دو سو مربع گز پر بنی ہوئی تین منزلہ مسجد ہے جس کی تعمیر پر پاکستان کے حساب سے تقریباً سات کروڑ روپے لاگت آئی ہے۔ مسجد کے ساتھ ایک جگہ کاروں کی پارکنگ کیلئے بھی کرائے پر لی ہوئی ہے۔ اس مسجد میں عشاء کی نماز ادا کی اور نماز کے بعد حاضرین سے مختصر خطاب بھی ہوا۔
    اگلی صبح جمعہ تھا، نماز فجر کی جماعت یہاں چار بج کر دس منٹ پر ہو رہی تھی اور سورج ساڑھے چار بجے نکل رہا تھا لہٰذا رات بہت مختصر تھی۔ مسجد کی دیوار قبلہ کے سامنے ایک دریا کے کنارے طویل و عریض پارک ہے جہاں میں نے فجر کے بعد اپنی چہل قدمی کا معمول پورا کیا اور اس کے بعد آرام۔
    جمعہ کے وقت مسجد کی تینوں منزلیں نمازیوں سے بھر گئی تھیں۔ جمعہ سے پہلے میرا خطاب اردو میں ہوا جس کا ساتھ ساتھ جاپانی اور انگریزی میں ترجمہ کرنے کا انتظام موجود تھا۔ نماز کے بعد دور دور سے آئے ہوئے مسلمانوں سے ملاقات بھی ہوئی اور کچھ دیر جاپان میں مسلمانوں کی زندگی اور ان کے مسائل کے بارے میں مذاکرہ بھی رہا۔
    اسی روز مغرب کے بعد ٹوکیو کے بعض مسلمان رہنما ملاقات کیلئے تشریف لائے جن میں ٹوکیو اسلامک سینٹر کے انتظامی سربراہ مولانا سلیم الرحمن صاحب دارالعلوم ندوة العلماء سے پڑھے ہوئے ہیں اور سالہا سال سے اسلامک سینٹر کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ مولانا سلمان تھانوی صاحب ہمارے دوست مولانا قاری احمد میاں تھانوی صاحب کے صاحبزادے ہیں جو ابینا میں تعلیم و تدریس اور مسلمانوں کے دینی مسائل میں ان کی رہنمائی کرتے ہیں، ان کے علاوہ ابراہیم اوکوبو صاحب ایک جاپانی نژاد نو مسلم ہیں جو دعوت دین کے کام میں یہاں بڑے سرگرم ہیں اور ہر طبقہٴ خیال کے مسلمان انہیں بہت عزت و احترام سے دیکھتے ہیں، انہوں نے تبلیغی نصاب کا جاپانی زبان میں ترجمہ کیا ہے اور آج کل فضائل صدقات کے ترجمے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے جاپانی مسلمانوں کی مشکلات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک میں مستند اہل علم کی تعداد بہت کم ہے اور جو اہل علم موجود ہیں ان کے درمیان رابطے کی کمی ہے جس کی وجہ سے بعض اوقات مسلمانوں کو حلال و حرام کے مسائل میں بڑی دشواری پیش آتی ہے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ یہاں کے اہل علم اور مسلمان رہنماؤں کی کوئی تنظیم ایسی ہونی چاہئے جو نہ صرف اجتماعی مشورے سے مسلمانوں کی رہنمائی کرے بلکہ پاکستان کے علماء سے بھی رابطے میں رہے اور نئے پیش آنے والے مسائل میں ان سے مشورہ کر کے کوئی لائحہ عمل اختیار کرے۔
    مولانا سلیم الرحمن صاحب اور مولانا سلمان تھانوی صاحب نے بھی اس تجویز کو پسند کیا اور اس سمت میں ابتدائی کارروائی میری جاپان میں موجودگی کے دوران ہی کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔
    عشاء کے بعد ابینا ہی کی مسجد میں میرے خطاب کا اعلان تھا، کافی دور دور سے لوگ اس اجتماع میں شرکت کیلئے آئے ہوئے تھے۔ میں نے سورہٴ تکاثر کی بنیاد پر کچھ گزارشات پیش کیں، چونکہ جاپان میں زیادہ تر مسلمان تجارت پیشہ ہیں، اس لئے اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے روپے پیسے کی دوڑ کے جو خطرات بیان فرمائے ہیں ان کی تفصیل عرض کی گئی اور حاضرین سے درخواست کی گئی کہ وہ کچھ وقت اپنے اور اپنے بچوں کے دینی حالات کو بہتر بنانے میں
    صرف کریں اور اس کیلئے ایک تو تبلیغی جماعتوں میں شرکت بہترین راستہ ہے اور دوسرے روزانہ رات کو سونے سے پہلے گھر والوں کے ساتھ مل کر کسی دینی کتاب کا مطالعہ کیا جائے جس کیلئے تبلیغی نصاب، حیات المسلمین اور اسوہٴ رسول اکرم ﷺ بہترین کتابیں ہیں۔
    اگلا دن اتوار تھا اور صبح سے ظہر تک کا وقت میرے اصل میزبان حامد عزیز صاحب نے اپنی تجارتی کمپنی کے مسائل کے لئے مخصوص کیا تھا۔ یہ کمپنی جاپان سے دنیا کے مختلف ممالک میں کاریں برآمد کرتی ہے اور اس کا کاروبار اچھا خاصا پھیلا ہوا ہے۔ حامد عزیز صاحب ایک غیرت مند پاکستانی مسلمان ہیں، جو یہ چاہتے ہیں کہ ان کے کاروبار میں کسی غیر شرعی معاملے کی آمیزش نہ ہو، اس لئے انہوں نے اپنے ذمہ دار رفقاء کی معیت میں میرے ساتھ یہ میٹنگ طے کی تھی جس میں انہوں نے کاروبار کی تفصیل بھی بیان کی اور اس سلسلے میں انہیں جو سوالات درپیش تھے، وہ میرے سامنے رکھے اور کاروبار کے مختلف پہلوؤں اور زکوٰة سے متعلق بہت سے مسائل کے بارے میں شرعی احکام معلوم کئے جنہیں باقاعدہ لکھ کر کمپنی کے طریق کار کا تعین کیا گیا۔ یہ میٹنگ جو بہت سے پیچیدہ مسائل سے متعلق تھی، ظہر تک جاری رہی۔
    ان تمام غیر مسلم ممالک میں جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں، بچوں کی تعلیم و تربیت ایک ایسا مسئلہ ہے جو مسلمانوں کے مسائل میں شاید سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے اور میں ہر جگہ اس بات پر زور دیتا رہا ہوں کہ مسلمانوں کو اپنے بچوں کے تحفظ کیلئے خود اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے چاہئیں۔ یورپ اور امریکہ کے بعض علاقوں میں الحمد للہ اب ایسے ادارے قائم ہو رہے ہیں لیکن جاپان میں ابھی تک ایسا کوئی قابل اطمینان انتظام نہیں ہو سکا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ تمام مسلمان بچے عام تعلیمی اداروں کی فضا میں رہ کر دینی تعلیم و تربیت سے بالکل محروم رہ جاتے ہیں، یہ بڑی سنگین صورت حال ہے جس کی طرف فوری توجہ کی ضرورت ہے اور جاپان میں جہاں بھی گیا، وہاں مسلمانوں کو اس طرف متوجہ کرتا رہا۔
    ابینا کی مسجد میں تقریباً سال بھر سے ایک مکتب کا انتظام کیا گیا ہے جس میں شام کے وقت تقریباً ستّر بچے قرآن کریم اور دینیات وغیرہ کی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور اب اسے کل وقتی مدرسے میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔
    اتوار کو ظہر کی نماز کے بعد اس مکتب کے بچوں اور ان کے سرپرستوں کا ایک اجتماع رکھا گیا تھا۔ طارق صاحب جو ہمارے قیام کے دوران ہمارے لئے بڑی محبت سے کھانے کا انتظام کرتے رہے، ان کے ایک بچے کا قرآن کریم مکمل ہوا تھا اور دوسرے بچے کی بسم اللہ تھی، نیز بہت سے جاپانی بچے جمع تھے۔ ان سے قرآن کریم کی مختلف سورتیں اور مسنون دعائیں سن کر خوشی ہوئی کہ بفضلہ تعالیٰ یہ کام کسی نہ کسی درجے میں شروع تو ہوا ہے۔ میں نے بچوں کے سرپرستوں سے درخواست کی کہ بچوں کی دینی تعلیم و تربیت چونکہ والدین کا فریضہ ہے اس لئے ان کا فرض ہے کہ وہ گھر میں بھی بچوں کو مناسب وقت دیں اور انہیں غیر محسوس طریقے سے بھی اسلامی احکام و آداب سے متعارف کراتے رہیں۔
    اسی روز شام کو عصر کے بعد مولانا سلیم الرحمن صاحب نے ٹوکیو کے اسلامک سینٹر میں مختلف تنظیموں کے افراد کا ایک اجتماع رکھا تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ ٹوکیو اور مضافات میں جو حضرات دینی اور سماجی کام کر رہے ہیں، ان سے بیک وقت میری ملاقات بھی ہو جائے اور میں ان کے سامنے کچھ گزارشات بھی پیش کر سکوں، چنانچہ عصر کی نماز ہم نے ٹوکیو اسلامک سینٹر میں پڑھی، جاپان میں اسلام کے داخلے کی تاریخ کا مختصر تذکرہ میں اپنے جاپان کے پہلے سفر نامے میں کر چکا ہوں، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ سب سے پہلے کسی جاپانی کے مسلمان ہونے کا واقعہ 1891ء میں پیش آیا تھا اس کے بعد متعدد جاپانی حضرات مسلمان ہوئے اور 1921ء میں روسی ترکستان سے ہجرت کرنے والوں کی ایک بڑی جماعت جاپان میں آ کر آباد ہوئی جس کی وجہ سے مسلمانوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوا، یہاں تک کہ 1953ء میں مسلمانوں کی پہلی تنظیم ” جمعیت المسلمین جاپان “ کا قیام عمل میں آیا۔ 1956ء سے تبلیغی جماعت کے حضرات کی یہاں آمد شروع ہوئی اور ان کی مخلصانہ جدوجہد سے اسلام کی نشر و اشاعت میں بہت اضافہ ہوا۔ 1961ء میں جاپان میں پڑھنے والے مسلم طلبہ نے، جو عرب ممالک، پاکستان، انڈونیشیا اور ترکی وغیرہ سے تعلق رکھتے تھے، یہاں مسلمان طلبہ کی ایک جمعیت قائم کی۔ شاہ فیصل مرحوم نے ایک وفد بھیجا جس نے 1974ء میں یہ اسلامک سینٹر ایک کرائے کی عمارت میں قائم کیا، پھر شاہ خالد مرحوم نے ایک زمین خرید کر اسلامک سینٹر کو دی اور اس پر شہزادہ احمد بن عبدالعزیز نے چھ منزلہ عمارت تعمیر کرائی جس کا افتتاح 1982ء میں ہوا۔
    __________________


    Noor, FaZii KhaN and Saad Sheikh like this.
  2. Fallen Angel New Member

    Message Count:
    514
    Likes Received:
    163
    achi sharing hai Mustansar Hussain k safar-namay bi shamil karain

    Noor likes this.

  3. Noor Inactive Member

    Message Count:
    2,150
    Likes Received:
    2,447
    thnks 4 sharing

  4. Heer Inactive Member

    Message Count:
    7,607
    Likes Received:
    8,686
    very nice, Thanx for sharing

    Noor likes this.
  5. FaZii KhaN New Member

    Message Count:
    1,471
    Likes Received:
    1,144
    Buht khub v.nice keep it up :)

  6. rubPzai Inactive Member

    Message Count:
    6,985
    Likes Received:
    1,012
    thanx 2 all 4 vstng

  7. Noor Inactive Member

    Message Count:
    2,150
    Likes Received:
    2,447
    ur welcome

Share This Page

Users found this page by searching for:

  1. اصلاحی خطبات تقی صاحب

    ,
  2. دنیا مرے آگے

    ,
  3. آداب زندگی مفتی تقی عثمانی

    ,
  4. روسی ترکستان,
  5. urdusafar nama,
  6. اصلاحی خطابات مفتی تقی عثمانی,
  7. دنیا مرے آگے مفتی تقی عثمانی,
  8. جاپانی میں مسلمانوں کی عزت,
  9. مفتی تقی عثمانی جاپان