poetry on roshni

  1. Maria-Noor

    Nazm Hamen maathay pe bosa do, Kabhi ham bhi khoobsurat the

    ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو! کبھی ہم بھی خوبصورت تھے کتابوں میں بسی خوشبو کی صورت سانس ساکن تھی! بہت سے اَن کہے لفظوں سے تصویریں بناتے تھے پرندوں کے پروں پر نظم لکھ کر دُور کی جھیلوں میں بسنے والے لوگوں کو سناتے تھے جو ہم سے دُور تھے لیکن ہمارے پاس رہتے تھے نئے دن کی مسافت جب کِرن کے ساتھ آنگن میں...
  2. Maria-Noor

    Ghazal Pathar tha magar barf ke gaalon ki tarah tha

    پتھر تھا مگر برف کے گالوں کی طرح تھا اک شخص اندھیروں میں اجالوں کی طرح تھا خوابوں کی طرح تھا نہ خیالوں کی طرح تھا وہ علم ریاضی کے سوالوں کی طرح تھا الجھا ہوا ایسا کہ کبھی حل نہ ہو سکا سلجھا ہوا ایسا کہ مثالوں کی طرح تھا وہ مل تو گیا تھا مگر اپنا ہی مقدر شطرنج کی الجھی ہوئی چالوں کی طرح تھا...
  3. Ustad

    Ashaar Koi Dhuwan Utha Na Koi Roshni Hui

    @Recently Active Users
  4. Asad Rehman

    Ghazal Shab laho laho rakhni , din dhuwan dhuwan rkhna by jalil Aali

    شاخ بے نمو پر بھی عکس گل جواں رکھنا آ گیا ہمیں عالی دل کو شادماں رکھنا بے فلک زمینوں پر روشنی کو ترسو گے سوچ کے دریچوں میں کوئی کہکشاں رکھنا رہرو تمنا کی داستاں ہے بس اتنی صبح و شام اک دھن میں خود کو نیم جاں رکھنا کار و بار دنیا میں اہل درد کی دولت سود سب لٹا دینا پاس ہر زیاں رکھنا اس کی یاد...
  5. Ustad

    Ashaar Is jahan main aam ho ke khas akhir Alvida By Jazib Kamalvi

    Alvida ay nafs ke ghavvas akhir alvida. Is jahan main aam ho ke khas akhir alvida. Jazib Kamalvi
  6. intelligent086

    Ghazal Aik Justaju Sada Hi Se Zehen Bashar Mein Hai By Jahangir Nayab

    اک جستجو سدا ہی سے ذہن بشر میں ہے جب سے ملی زمین مسلسل سفر میں ہے ہر چند میرے ساتھ اداسی سفر میں ہے روشن چراغ شوق مگر چشم تر میں ہے ملاح کہہ رہا ہے کہ ساحل ہے بس قریب لیکن مجھے پتہ ہے کہ کشتی بھنور میں ہے تم سے کبھی جو بول نہ پایا میں ایک بات بن کر خلش وہ آج بھی میرے جگر میں ہے بربادیوں کی...
  7. sahrish khan

    Ghazal Tumhara dast e Shafiq thama

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تمھاری باتوں کی بھینی خوشبو ہماری سوچوں میں بس گئی ہے تمھارے نقش قدم سے ہم نے ہزاروں اُجلے خیال پائے تمھارا دستِ شفیق تھاما تمھاری اُنگلی پکڑ کے خود کو سنبھال پائے تمھاری آنکھوں کی روشنی سے ہمارے دِل بھی ہوئے منور تمھارے لفظوں کے سچے موتی ہمارے دامن میں بھر گئے ہیں تمھارے...
  8. sahrish khan

    Ghazal Sang e beqeemat tarasha our jhar kardeya

    سنگ‌ بے قیمت تراشا اور جوہر کر دیا شمع علم و آگہی سے دل منور کر دیا فکر و فن تہذیب و حکمت دی شعور و آگہی گم‌ شدان راہ کو گویا کہ رہبر کر دیا چشم فیض اور دست وہ پارس صفت جب چھو گئے مجھ کو مٹی سے اٹھایا اور فلک پر کر دیا دے جزا اللہ تو اس باغبان علم کو جس نے غنچوں کو کھلایا اور گل تر کر دیا...
  9. sahrish khan

    Nazm Meray Ustad

    قید عمر رواں کی سلاخوں کو تھامے ہوئے جب کبھی جھانکتا ہوں میں ماضی کی کھڑکی سے اب یاد آتی ہیں مجھ کو وہ پگڈنڈیاں جن پہ بھاگا تھا بچپن کھلے پاؤں دھوپ سے کھلتی برگدی چھاؤں اور مہکتی چہکتی ہوئی دھول میری انگلی پکڑ کر مجھے لے کے جاتی تھی اسکول وہ ادارہ جہاں شرط تھی علم و فن کی تراش ایسا مندر جہاں ہو...
  10. sahrish khan

    Ghazal Roshni or baharny tum hi rakh lu jaana

Top
AdBlock Detected
Your browser is blocking advertisements. We're strongly asking to disable ad blocker while you're browsing in Pakistan.web.pk. You may not be aware but any visitor supports our site by just viewing and visiting ads.

آپ کے ویب براؤزر میں ایڈ بلاکر انسٹال ہے، مہربانی کرکے اسے پاکستان ویب پر ڈس ایبل رکھیں ۔ شاید آپ کو معلوم نہ ہو مگر سپانسر اشتہارات کو دیکھ کر ہی آپ پاکستان ویب کو سپورٹ کرتے ہیں۔ سپانسر اشتہارات سے ویب سائٹ کے اخراجات ادا کرنے میں تھوڑی سی ہی سہی مگر مدد ملتی ہے، اس لئے ابھی اپنے براؤزر کی آپشنز میں جاکر ایڈ بلاکر بند کر دیں، شکریہ

I've Disabled AdBlock    No Thanks