Aadam khori ka rawaj By Razwan Ata

intelligent086

Popular Pakistani
Level
9
Awards
23
آدم خوری کا رواج ......... تحریر : رضوان عطا
adamkhor.jpg
یہ 1972ء کا واقعہ ہے، یوروگوئے کی رگبی ٹیم کے 19 ارکان فضائیہ کے ہوائی جہاز پر چلّی جا رہے تھے۔ جہاز میں کل 45 افراد سوار تھے۔ بدقسمتی سے جہاز دوردراز اور بے آباد انڈیز کی پہاڑیوں میں جا گرا۔ سوار افراد میں سے 28 کی جان بچ گئی لیکن انہیں کھانے کی اشیا کی قلت کا سامنا تھا۔ 72 دنوں بعد ان تک امداد پہنچ پائی۔ خوراک کی عدم دستیابی کی وجہ سے کچھ افراد مر گئے۔ یہاں بقا کی طویل جنگ لڑی گئی اور زندہ رہنے والوں نے موت کا انتظار کرنے کے بجائے مرنے والے اپنے ساتھیوں کا گوشت کھایا۔ اس حادثے میں صرف 16افراد کو زندہ نکالا جا سکا۔دوسری عالمی جنگ کے دوران نازی قوتوں نے سوویت یونین کے شہر لینن گراڈ کا 872 روزہ محاصرہ کیا۔ 1941-42ء کے سرما میں جب وہاں پرندے، چوہے اور پالتو جانور مجبوراً کھا لیے گئے تو مرنے والے انسانوں کی باری آ ئی، اس لیے لینن گراڈ کی پولیس نے آدم خوری سے لڑنے کے لیے ایک خصوصی دستہ تشکیل دیا۔ جان بچانے کے لیے اس عمل کی تائید کرنے والے لوگ تو شاید موجود ہوں، لیکن جو لوگ زندہ انسانوں کو مار کر کھاتے ہیں ان کے بارے کیا کہا جائے گا؟ ان کی شدید مذمت ہو گی، مگر عجب تضاد ہے، آدم خوری یا انسان کا انسان کو کھانا، ایک ایسا موضوع ہے جس میں نفرت اور کراہت کا پہلو ہوتے ہوئے سنسنی خیزی اور تفریح کا عنصر تلاش کیا جاتا ہے۔ اس کا ذکر بچوں کی کہانیوں میں ملتا ہے۔ بالی وُڈ اور لالی وُڈ کی فلموں میں دکھایا جاتا ہے کہ جنگلی قبائل میں پھنسے اور بندھے شہری افراد کسی دیگ میں پکنے کو تیار ہیں۔ تاہم ان کا انجام خوشگوار ہوتا ہے…پھر وہ کسی طرح وہاں سے رفوچکر ہونے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ برصغیر کی فلموں میں عموماً آدم خوروں کو ہلکے پھلکے اور سادہ انداز میں پیش کیاجاتا ہے۔ ان کی زیادہ متنوع اور تلخ تصویر ہالی وُڈ اور مغربی سینما میں پیش کی جاتی رہی ہے۔ اس میں دوسری قوموں یا معاشروں میں اس عمل کو مبینہ طور پر بوجوہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔دوسری طرف ماہرین سماجیات نے ایسے قبائل اور تہذیبوں کا پتا چلایا ہے جن میں حقیقتاً آدم خوری رائج تھی اور یوروگوئے کے ہوائی جہاز کے مسافروں کے معاملے کے برخلاف یہ رواج کسی فوری مجبوری کا نتیجہ نہیں تھا۔ آدم خوری بعض علاقوں میں کچھ عرصے کے لیے عام رہی اور معیوب نہیں سمجھی جاتی تھی۔ مثال کے طور پر قدیم چین میں ایک وقت ایسا بھی گزرا ہے جس میں شاہی مینو میں انسانی اعضا شامل ہوتے تھے۔ بہرحال یہ حقیقت ہے کہ مجموعی طور پر انسانی معاشروں میں آدم خوری کو نہ پسند کیا جاتا ہے اور نہ ہی یہ رائج رہی ہے۔ استثنیٰ بھی بہت سے ہیں۔ بعض معاشروں، بالخصوص قبائلی، میں آدم خوری غیراخلاقی تصور نہیں ہوتی تھی۔ چند تو ایسے تھے جو کسی ’’غیر‘‘ کے بجائے اپنوں کو کھا جاتے تھے۔ اگرچہ یہ عجیب اور ناقابل فہم محسوس ہوتا ہے لیکن ایسا کرنے والے اسے اظہارِغم کا ذریعہ یا مرنے والے کی روح کی زندوں میں تحلیل کے لیے اہم خیال کرتے تھے۔ اس کے علاوہ دشمنوں کا گوشت یا کوئی عضو کھا لیا جاتا، جس کا بظاہر سبب اپنی برتری اور ہیبت طاری کرنا ہوتا، یا پھر نفرت اور حقارت کا اظہار۔ آدم خوری کی تاریخ لاکھوں برس قدیم ہے۔ ایک ’’ہوموسیپین‘‘ انسان کی چھ لاکھ برس قدیم ہڈیاں ملی ہیں، اس کے بارے ماہرین کا خیال ہے وہ آدم خوروں کا نشانہ بنا۔ زمانہ بعداز تاریخ کے برخلاف پتھر کے زمانے میں آدم خوری کے زیادہ رائج ہونے کے شواہد ملے ہیں۔ خوراک کی قلت اس کا باعث ہو سکتی ہے۔ اس حوالے سے مختلف نظریات میں سے ایک یہ ہے کہ مرنے والوں کو خطرناک شکاری جانوروں سے دور رکھنے کے لیے یہ عمل بعض سماجوں میں داخل ہو گیا۔ ان جانوروں کے نزدیک آنے کا ایک مطلب یہ ہوتا کہ وہ زندہ انسانوں پر حملہ آور ہوں گے۔ مسابقت اور برتری کی جدوجہد نے بھی بعض معاشروں میں آدم خوری کو ہوا دی۔ عسکری برتری اور ہیبت طاری کرنے کے لیے ایسا کیا جاتا۔ مغرب میں کئی بار کسی ناپسندیدہ عمل کو وحشیانہ، غیرمہذب اور غیر اخلاقی قرار دیتے ہوئے کر سارا ملبہ ’’جنگلی، ’’وحشی‘‘ اور قبائلی غیرمغربی معاشروں پر ڈال دیا جاتا ہے، تاہم جہاں تک آدم خوری کا تعلق ہے، مغرب میں اس کی کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ برطانیہ میں محض دو ہزار برس قبل آدم خوری کی موجودگی کے شواہد ملے ہیں۔ موجودہ سپین میں واقع علاقے نومانتیا کا رومیوں نے 133 ق م میں محاصرہ کیا اور کئی ماہ بعد وہاں کے باسی بھوک سے مرنے لگے، بڑی تعداد نے خودکشی کی یا آدم خوری پر مجبور ہوئے۔ بعض ماہرین کے مطابق رومیوں کی جانب سے 70ء میں یروشلم کے محاصرے میں کچھ ایسا ہی ہوا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پہلی صلیبی جنگ میں صلیبی سپاہی اس عمل میں شامل رہے۔ یورپ میں 1315ء سے 1317ء تک بہت بڑا قحط آیا تھا جس میں آدم خوری دیکھی گئی۔ مغربی اقوام جب دوسرے خطوں کو دریافت اور فتح کرنے نکلیں تو مبینہ طور پر انہوں نے قدیم معاشروں میں آدم خوری کے رواج کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا تاکہ ان لوگوں پر اپنے قبضے کی راہ کو ہموار کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں ایک مثال کرسٹوفر کولمبس کی دی جاتی ہے، جب وہ ’’نئی دنیا‘‘ یعنی براعظم امریکا پہلی بار پہنچا تو اس نے مقامی باشندوں کو دوستانہ اور کوئی مسئلہ پیدا نہ کرنے والا قرار دیا۔ اس نے اپنی ملکہ ایزابیلا سے گزارش کی کہ ان لوگوں کے ساتھ عزت و احترام اور نرمی سے پیش آیا جائے، اور صرف اس صورت میں ایسا نہ کیا جائے جب یہ واضح ہو جائے کہ وہ آدم خور ہیں۔ ہسپانوی آئے تو خزانوں کی تلاش میں تھے جو انہیں شروع شروع میں ملا نہیں، اس کے بعد انہیں امریکی مقامیوں کو زیردست اور غلام بنانے کا خیال آیا۔ لہٰذا جب کولمبس ان مقامی باشندوں کے پاس دوبارہ گیا جنہیں وہ دوستانہ قرار دے چکا تھا تو انہیں آدم خوروں کے زمرے میں لے آیا۔ اب ایک جواز موجود تھا کہ انہیں غلام بنایا جا سکتا ہے یا جو سلوک چاہے کیا جا سکتا ہے۔ بعدازاں کئی جزائر پر ایسی تباہی پھیلائی گئی کہ وہاں انسانی آبادی سرے سے غائب ہو گئی۔ آدم خوری کتنے وسیع پیمانے پر رائج تھی، اس بارے میں اختلاف رائے تو ہے لیکن یہ امر جانا مانا ہے کہ دنیا کے مختلف خطوں میں آدم خوری رائج رہی۔ انگریزی میں اسے ’’کینی بلزم‘‘ کہتے ہیں اور یہ اصطلاح نسبتاً نئی ہے۔ انسانی گوشت کھانے کے لیے اختیار کردہ یہ اصطلاح ہسپانوی نام (کیری بالس یا کینی بالس) سے نکلی ہے۔ دراصل کاریب ویسٹ انڈیز کا ایک قبیلہ تھا جو آدم خوری کی شہرت رکھتا تھا۔ دورجدید کے آغاز تک یہ عمل مغربی اور وسطی افریقہ، میلانیشیا بالخصوص فیجی، نیوگینی، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ کے ماؤری، پولینیشیا کے بعض جزائر، سماٹرا کے بعض قبائل، اور شمالی اور جنوبی امریکا کے مختلف قبائل میں ہوتا رہا۔ بعض علاقے ایسے تھے جہاں انسانی گوشت کو خوراک سمجھا جاتا تھا۔ میلانیشیا میں ایسا ہوتا تھا۔ ماؤری لوگ عام طور پر جنگ میں مرنے والوں کے اعضا کے ٹکڑے کر دیتے اور ان کے گوشت کی دعوت اڑاتے۔ یہ دشمنوں کو بھیانک انجام سے خوف زدہ کرتا۔ سماٹرا کے باٹاک اپنے بازاروں میں انسانوں کا گوشت بھی بیچا کرتے تھے۔ لیکن جب ولندیزوں نے یہاں کا کنٹرول حاصل کیا تو یہ عمل بند ہو گیا۔ انسانی گوشت کو جادو ٹونے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا، اور اس کی تازہ مثالیں بھی ہیں۔ ان میں بعض اوقات چند انسانی اعضا کھائے جاتے اور خیال کیا جاتا کہ کھانے والے کو کچھ طاقتیں حاصل یا منتقل ہو جائیں گی۔ دشمن کے جسم کے کسی ایک حصے کو بھی کھانے کا رواج تھا جو بدلہ لینے کا بھی ایک طریقہ تھا۔ لاطینی امریکا کی قدیم تہذیب ازٹک میںاس نوع کی آدم خوری کا خاصا رواج تھا۔ خاص طور پر جنگوں میں پکڑے جانے والوں کو مذہبی رسومات کی بھینٹ چڑھایا اور کھایا جاتا تھا۔انسان ایسا کیوں کرتے ہیں، ان بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا مشکل ہے۔ مختلف گروہوں اس کی مختلف وجوہات بتائی جاتی ہیں۔ بعض ذہنی مریض بھی ایسی حرکتیں کرتے ہیں۔ بعض خفیہ سوسائٹیز میں ایسے واقعات پیش آتے ہیں۔ تاہم اب یہ عمل دنیا میں کم و بیش ناپید ہو چکا ہے۔ کوئی ایسا معاشرہ باقی نہیں بچا جو اسے جائز قرار دیتا ہو۔​
 

Top