Alberoni ne kya bataya By Professor Zafar Ahmad Nizami

intelligent086

Popular Pakistani
Level
9
Awards
23
البیرونی نے کیا بتایا؟ ۔۔۔۔۔۔۔ تحریر : پروفیسر ظفر احمد نظامی

Alberoni.jpg
ابوریحان محمد بن احمد البیرونی (973ء تا 1048ء) ایک بہت بڑے محقق اور سائنس دان تھے۔البیرونی نے ریاضی، علم ہیئت، تاریخ اور جغرافیہ میں بہت عمدہ کتب لکھیں جنہیں اب تک پڑھا جاتا ہے۔ ان میں ایک شہرۂ آفاق کتاب ’’کتاب الہند‘‘ ہے۔ برصغیر کے اس دور کے علوم میں مہارت حاصل کرنے اور ان پر بے شمار کتابیں جمع کرنے کے بعد البیرونی نے ’’کتاب الہند‘‘ کی قلم بندی شروع کی اور اسے ایک شاہکار کی شکل میں دنیا کے سامنے کامیابی کے ساتھ پیش کیا جو اب بھی دنیائے علوم میں عجائبات کی حیثیت رکھتی ہے۔ ’’کتاب الہند‘‘ ایک تعارف اور اسّی طویل ابواب پر مشتمل ہے۔
ہندو دیوتاؤں کے نظریات سے اس کا آغاز ہوتا ہے۔ اس میں ہندوستان کے جغرافیہ، تاریخ اور خطے کی مختلف داستانیں ہیں، اوقات کے متعین کرنے کے طریقے اور مروجہ ناپ تول کے نظام کا ذکر ہے۔ البیرونی نے اس میں ہندو تہواروں، طور طریقوں، مذہبی تقریبوں اور مقدس ایام کی تفصیل بیان کی ہے، ہندو قوانین کی مبادیات، فقہ اور سماجی رواجوں سے بحث کی ہے۔ بعد ازاں اس نے ہندوستانی ریاضی اور فلکیاتی علوم کی وضاحت کی ہے۔ ’’کتاب الہند‘‘ کے اولین تیس ابواب کے اہم موضوعات کی تفصیل البیرونی کے علم اور اس کی معلومات پر روشنی ڈالتی ہے۔ اس کا پہلا باب ہندوستانی فلسفہ سے مسلمانوں کی ناواقفیت پر تبصرہ کرتا ہے اور ان پریشانیوں کا ذکر کرتا ہے جو مصنف کو اپنے مطالعات کے دوران ہندوستان میں اٹھانی پڑیں۔
اسی باب میں اس نے ہندوستانی اور یونانی سائنسی نظریات کے مابین فرق کو واضح کیا ہے۔ اس کے دوسرے باب میں البیرونی نے دیوتاؤں کے بارے میں ہندو نظریات سے بحث کی ہے اور دانشوروں اور عوام الناس کے عقائد میں اختلاف کو واضح کیا ہے۔ تیسرے اور چوتھے ابواب میں معقول اور دانش مندانہ حیثیتوں سے بحث کی گئی ہے اور یونانی، صوفی، یہودی اور عیسائی نظریات سے ان کا موازنہ کیا گیا ہے۔ پانچواں باب تناسخ سے متعلق بحث پر مبنی ہے اور روح کے قطعی نصب العین کی وضاحت کرتا ہے۔
چھٹے باب میں حیات بعدالممات کی توضیح ہے۔ ساتواں باب موکش سے متعلق ہے اور بھگودگیتا، پاتنجلی اور وشنوپران پر مبنی ہے۔ اس میں ہندو نظریات کا موازنہ یونانی اور صوفی خیالات سے کیا گیا ہے۔ آٹھواں باب انسان کے مختلف درجات کا احاطہ کرتا ہے اور برہما، نارائن اور رودر کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے۔ نویں باب میں ہندو معاشرے کی چار ذاتوں سے متعلق بحث کی گئی ہے۔ دسواں باب ہندو مذاہب اور قوانین پر محیط ہے۔ اس باب کی بیشتر معلومات مہا بھارت اور وشنو پران سے ماخوذ ہیں۔ گیارہویں باب میں ہندوؤں کے مشہور اصنام کی تفصیل بیان کی گئی ہے اور اصنام پرستی پر بحث کی گئی ہے۔ بارہواں باب چارویدوں، اٹھارہ پرانوں اور بیس اسمرتیوں کی وضاحت کرتا ہے۔
اس میں مہابھارت کے اٹھارہ پرووں کا اجمالی ذکر بھی شامل ہے۔ تیرہویں باب میں سنسکرت کے علم عروض کا موازنہ عربی اور یونانی بحروں سے کیا گیا ہے۔ چودھواں باب ہندوستانی فلکیات، نجوم اور طب کے لیے وقف کیا گیا ہے اور ان موضوعات پر قلم بند کی گئی کتابوں کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ پندرہویں باب میں ہندوستان کے ناپ تول کا مسلمانوں کے مروجہ طریقوں سے موازنہ کیا گیا ہے۔ ’’کتاب الہند‘‘ کا سولہواں باب سنسکرت کے حروف تہجی، گنتی، تحریر کے مختلف طریقوں اور ہندوستانی کھیلوں یعنی شطرنج وغیرہ سے بحث کا موضوع ہے۔
سترہواں باب کیمیا گری اور اس سے متعلق بہت سی داستانوں پر مشتمل ہے۔ اٹھارہویں باب میں ہندوستان کی جغرافیائی تفصیل ہے اور اس میں آب و ہوا، پہاڑوں، ندیوں اور اس کے لوگوں کے عادات و اطوار بیان کیے گئے ہیں۔ انیسویں باب میں ہندوؤں کے اوقات کے تعین کے طریقے، دنوں کے نام، بارہ مہینوں کی تفصیل اور سیاروں کا ذکر ہے۔ بیسواں باب دنیا کی پیدائش سے متعلق ہے۔ اکیسویں باب میں ارض و سما کی اشکال سے بحث کی گئی ہے
اور پرانوں پر مبنی ان کے نقشہ جات بھی پیش کیے گئے ہیں۔ بائیسواں باب قطب شمالی کے ذکر کا احاطہ کرتا ہے۔ تیئسواں باب کوہ میرو سے متعلق ہے جو دنیا کا وسطی مرکز ہے۔ چوبیسویں باب میں دنیا کے سات جزیروں کی داستان بیان کی گئی ہے۔ پچیسویں باب میں پرانوں کے مطابق ہندوستان کے دریاؤں کی تفصیل درج ہے۔
چھبیسویں باب میں ہندوستانی ماہرین فلکیات کے مطابق زمین اور آسمان کی شکلوں سے بحث کی گئی ہے۔ ستائیسواں باب آفاق کی اولین دو حرکتوں سے متعلق ہے۔ اٹھائیسواں باب دنیا کی دس سمتوں کا احاطہ کرتا ہے۔
انتیسواں باب ہندوؤں کے مطابق آباد علاقوں کی وضاحت کرتا ہے جبکہ تیسواں باب جزیرۂ سراندیپ یعنی سری لنکا سے متعلق بحث کے لیے وقف کیا گیا ہے جسے قبتہ الارض کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ ’’کتاب الہند‘‘ کا ہر باب تین حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصہ سوال کا حامل ہوتا ہے۔ دوسرے حصے میں ہندوؤں کے نظریات اور سنسکرت کی کتابوں کے اقتباسات اور اسی قسم کی معلومات ہیں جنہیں البیرونی تک پہنچایا گیا اور تیسرے حصے میں موازنہ کیا گیا ہے۔ اسی لیے ہر باب اپنے آپ میں مکمل ہے۔
درحقیقت ’’کتاب الہند‘‘ ہندوؤں کے سائنسی اور مذہبی نظریات، ان کے عادات و اطوار اور ان کی تنظیموں اور اداروں ہی کی داستان نہیں بلکہ اس میں البیرونی نے بیشتر نکات کو عالمی سطح پر بحث کا موضوع بنایا ہے۔ اس نے ہندوؤں، مسلمانوں کے رسوم و رواج، طرز فکر، زبان اور مذہبوں کے درمیان تفریق و امتیاز سے تفصیل کے ساتھ بحث کی ہے۔ البیرونی تاریخ کی ان عظیم شخصیتوں میں سے ہے جس نے آزاد خیالی، ادبی جرأت، بے لاگ تنقید اور علمی تحقیق کا مظاہرہ کیا
اور ہر تصنیف پر اپنی چھاپ چھوڑی جس سے اس کی علمی تبحر کی مثال ملتی ہے۔ اگرچہ وہ بہت سی زبانوں کا ماہر تھا جن میں عربی، فارسی، سنسکرت، یونانی، سریانی اور عبرانی شامل تھیں، لیکن محض عربی زبان ہی کو اظہار کے قابل تصور کرتا تھا۔


 

Top