1. intelligent086
    9

    intelligent086 Popular Pakistani



    اپنے حصار ذات میں الجھا ہوا ہوں میں
    یعنی کہ کائنات میں الجھا ہوا ہوں میں

    قابو میں آج دل نہیں کیا ہو گیا مجھے
    پھر آج خواہشات میں الجھا ہوا ہوں میں

    جیسے کہ ہونے والی ہے انہونی پھر کوئی
    ہر پل توہمات میں الجھا ہوا ہوں میں

    کچھ اپنا فرض پیار ترا فکر روزگار
    کتنے ہی واردات میں الجھا ہوا ہوں میں

    فرصت کہاں بناؤں مراسم نئے نئے
    پچھلے تعلقات میں الجھا ہوا ہوں میں

    سب ہیں اسیر رنج و الم اس جہان میں
    تنہا کہاں حیات میں الجھا ہوا ہوں میں


    نایابؔ جب نہیں ہے وفاؤں کا اس کو پاس
    پھر کیوں تکلفات میں الجھا ہوا ہوں میں

    جہانگیر نایاب
     
    Tags:
    Maria-Noor likes this.
  2. intelligent086
    9

    intelligent086 Popular Pakistani

  3. Maria-Noor
    8

    Maria-Noor Popular Pakistani I Love Reading

    @intelligent086
    واہ پہلی غزل والا ہی معاملہ ہے
    بہت عمدہ
    شیئر کرنے کا شکریہ
     
    intelligent086 likes this.
  4. intelligent086
    9

    intelligent086 Popular Pakistani

    @Maria-Noor
    ایک شعر کے لیئے پوری غزل
    پسند اور رائے کا شکریہ
     
    Maria-Noor likes this.
  5. Maria-Noor
    8

    Maria-Noor Popular Pakistani I Love Reading

  6. intelligent086
    9

    intelligent086 Popular Pakistani

Loading...