Ghussa Kayun Aata Hai? Modern way of life makes us impatient and angry?

intelligent086

intelligent086

Star Pakistani
7,046
12,848
981
غصہ کیوں آتا ہے ... تحریر : محمد ہارون

Ghussa.jpg


ایک ماہر نفسیات کا دعویٰ ہے کہ جدید طرز زندگی جہاں ہماری بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے میں کامیاب ہوئی ہے، وہیں بدلے میں، ہمیں بے صبرا اور غصہ کرنے والا بنا رہی ہے۔

برطانیہ میں لنکاشائر سے تعلق رکھنے والی نفسیات کی پروفیسر سینڈی مان کہتی ہیں کہ، جارحیت جو کبھی ہماری بقا کے لیے ضروری تھی اس کا ہمارے دماغ کیساتھ آج بھی ربط موجود ہے، جو کبھی بھی غلط نشانہ چن لیتا ہے، جب کہ، اس کی وجہ موجود نہیں ہوتی۔

وہ کہتی ہیں کہ ،آرام دہ زندگی ہمیں نازک مزاج بنا رہی ہے جو نسبتاً معمولی اور چھوٹے واقعات کے بارے میں ہمیں جلد ہی غصے کی طرف لے جاتی ہے، اور ساتھ ہی، جدید طرز زندگی کی عادت نے ہماری توقعات اس قدر بڑھا دی ہیں کہ کمال کی حد سے کچھ کم ہمیں پسند نہیں آتا، جس پر اکثر ہم کسی بچے کی مانند ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔

اْن کا کہنا ہے کہ غصہ انسان کے ابتدائی ایام میں سماجی سرگرمیوں میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے میں مدد کرتا تھا۔ خاص طور پر، یہ ان لوگوں کے لیے ایک انتباہ کا کام کرتا تھا جن کا رویہ دوسروں کے لیے پریشان کن ہوتا تھا۔ماہر نفسیات ڈاکٹر مان کے مطابق، غصے کی حالت میں لال بھبوکا ہونا یا آپے سے باہر ہوجانا ایسی کیفیت تھی جس سے ہمارے باپ دادا کو زندہ رہنے میں مدد ملی، کیونکہ، ان کی غیر موجودگی میں خوراک کا چوری ہونا یا دشمن کا انھیں جان سے مارنے کی کوشش کے بدلے میں ان کے پاس اپنے بچاؤ کے لیے خطرناک تیور اور دھاڑنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا تھا۔

ڈاکٹر مان کے مطابق،آج ہماری بنیادی ضرورتیں تو پوری ہو رہی ہیں، لیکن ساتھ ہی، ہماری توقعات بے لگام ہوتی جارہی ہیں۔انھوں نے کہا کہ یہ غصہ ہمیں معمولی باتوں پر پْرتشدد ردعمل کی طرف راغب کر سکتا ہے، مثلاََ روڈ پر ہونے والے واقعات اور چھوٹی چھوٹی باتوں مثلاََ ریستوران میں کھانا گرم نہ ملنے پر بھی بھڑکا سکتا ہے،جبکہ بعض حالات اس غصہ کو بڑھانے میں کسی ایندھن کا کام سر انجام دیتے ہیں، جن میں غیر حقیقی توقعات ضرورت سے زیادہ بڑھا دی جاتی ہے۔ مثلاً سپر مارکیٹ کا دعویٰ ہے کہ سامان کی ادائیگی کے لیے لمبی قطار میں کھڑے لوگوں کو انتظار کی زحمت سے بچانے کیلئے نئی قطار کھول دیں گے۔ اکثر لوگوں کو اس وقت بھڑکا دیتی ہے جب انھیں ایسا ہوتا نظر نہیں آتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ،'اس بات پر کہ ہم بچوں کی طرح خراب ہو رہے ہیں، دلیل دی جا سکتی ہے کیونکہ ہم ہر چیز اپنی توقع کے عین مطابق چاہتے ہیں۔ اور جب ایسا نہیں ہوتا، تو ہم کسی بچے کی طرح ہی پیر پٹخنے لگتے ہیں۔

ڈاکٹر مان نے ایک سادہ سی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے غصے پر قابو پانے کے لیے خود سے بار بار یہ سوال کرنا ہوگا کہ آیا یہ واقعہ ہماری زندگی کی بقا کے لیے کوئی دھمکی ہے اور اگر ایسا نہیں ہے تو ہمیں اپنے غصے کو لگام ڈال لینی چاہیئے اور دھیرج والا رویہ اختیار کرنا چاہیئے ۔​
 

Create an account or login to comment

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

Similar threads

intelligent086
Replies
11
Views
122
intelligent086
intelligent086
Harry Potter
Replies
5
Views
60
Abdullah Jaan
Abdullah Jaan
intelligent086
    • Like
  • intelligent086
  • 10
  • 90
2
Replies
10
Views
90
intelligent086
intelligent086
intelligent086
    • Like
  • intelligent086
  • 7
  • 50
Replies
7
Views
50
intelligent086
intelligent086
Top
AdBlock Detected
Your browser is blocking advertisements. We're strongly asking to disable ad blocker while you're browsing in Pakistan.web.pk. You may not be aware but any visitor supports our site by just viewing and visiting ads.

آپ کے ویب براؤزر میں ایڈ بلاکر انسٹال ہے، مہربانی کرکے اسے پاکستان ویب پر ڈس ایبل رکھیں ۔ شاید آپ کو معلوم نہ ہو مگر سپانسر اشتہارات کو دیکھ کر ہی آپ پاکستان ویب کو سپورٹ کرتے ہیں۔ سپانسر اشتہارات سے ویب سائٹ کے اخراجات ادا کرنے میں تھوڑی سی ہی سہی مگر مدد ملتی ہے، اس لئے ابھی اپنے براؤزر کی آپشنز میں جاکر ایڈ بلاکر بند کر دیں، شکریہ

I've Disabled AdBlock    No Thanks