sahrish khan

Star Pakistani
I Love Reading
Level
11
Awards
24
لہو ہی کتنا ہے جو چشم تر سے نکلے گا
یہاں بھی کام نہ عرض ہنر سے نکلے گا
ہر ایک شخص ہے بے سمتیوں کی دھند میں گم
بتائے کون کہ سورج کدھر سے نکلے گا
کرو جو کر سکو بکھرے ہوئے وجود کو جمع
کہ کچھ نہ کچھ تو غبار سفر سے نکلے گا
میں اپنے آپ سے مل کر ہوا بہت مایوس
خبر تھی گرم کہ وہ آج گھر سے نکلے گا
ہیں برف برف ابھی میرے عہد کی راتیں
افق جلیں گے تو شعلہ سحر سے نکلے گا
یہ کیا خبر تھی کہ اے رنج رائگاں نفسی
دھواں بھی سینۂ اہل نظر سے نکلے گا
مری زمیں نے خلا میں بھی کھینچ دی دیوار
تو آسماں سہی کس رہ گزر سے نکلے گا
تمام لوگ اسی حسرت میں دھوپ دھوپ جلے
کبھی تو سایہ گھنیرے شجر سے نکلے گا
سمو نہ تاروں میں مجھ کو کہ ہوں وہ سیل نوا
جو زندگی کے لب معتبر سے نکلے گا
پھرا ہوں کاسہ لیے لفظ لفظ کے پیچھے
تمام عمر یہ سودا نہ سر سے نکلے گا
فضاؔ متاع قلم کو سنبھال کر رکھو
کہ آفتاب اسی درج گہر سے نکلے گا
 

Top