Haqeeqat bus itni cee hai By Ammar Choudhry Column

intelligent086

Popular Pakistani
Level
9
Awards
23
حقیقت بس اتنی سی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عمار چوہدری

ایک کورونا وائرس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس سے صرف ہلاکتیں ہی نہیں ہو رہیں بلکہ اس کے پھیلائو کے خدشے کے باعث چین سمیت درجنوں ممالک کی معیشت کو سنگین خطرات بھی لاحق ہو گئے ہیں۔ پاکستان سمیت دنیا کے دو سو ممالک چینی معیشت سے جڑے ہیں اور چین سے کچھ نہ کچھ منگوا رہے ہیں۔ کورونا وائرس کی وجہ سے بین الاقوامی سیاحت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سٹاک مارکیٹس 2016ء کے بعد بدترین بحران سے دوچار ہیں۔ یہ خطرات ہر آنے والے دن بین الاقوامی حصص مارکیٹ کے لیے بُری خبر لا رہے ہیں۔ برٹش اور فرانسیسی سٹاک مارکیٹ میں 6 فیصد سے 13 فیصد کے درمیان کمی آئی ہے۔ یورپی سیاحتی کمپنیوں کے حصص تیزی کے ساتھ کم ہو رہے ہیں۔ اسی طرح کورونا وائرس کے باعث اٹلی میں میلانو سٹاک ایکسچینج سخت دباؤ میں ہے۔ اس کی ایک وجہ کورونا کا اٹلی میں پھیلنا بھی شامل ہے۔ اٹلی ان 29 ممالک میں سے ایک ہے جہاں کورونا وائرس پھیل چکا ہے۔ بڑھتے خطرات کے پیش نظر سٹاک مارکیٹ میں نئے سرمایہ کاروں کی تعداد میں بھی کمی آ رہی ہے۔ لگژری سامان بنانے والی کمپنیوں، کان کنی کی فرموں، آٹو موبائل انڈسٹری، ٹیکنالوجی اور بینکوں کے حصص تین فیصد سے زیادہ گر گئے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کی سٹاک مارکیٹس گزشتہ روز چین کے علاوہ دیگر ممالک میں کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کی وجہ سے ایک ساتھ دھڑام سے نیچے آ گریں۔ خام تیل کی عالمی منڈی میں قیمت 2 اعشاریہ 37 ڈالر کمی ہوئی جو کل کے اعتبار سے 4 اعشاریہ ایک فیصد کے برابر ہے۔ جنوبی کوریا، ایران اور اٹلی میں کورونا کے نئے کیسز سامنے آنے اور ہلاکتوں کے واقعات نے خلیجی حصص بازار کو بد ترین مندی سے دوچار کر دیا ہے۔ تیل کی کم قیمتیں مجموعی طور پر سکڑ رہی ہیں جو پیٹرو کیمیکلز کے لیے منفی عنصر ہے، لیکن اس شعبے کو براہ راست کورونا وائرس سے بھی متاثر کیا گیا کیونکہ چین ایک بڑا صارف ہے۔
چونکہ یہ بیماری اچھوت کی طرح پھیلتی ہے اس لئے خود چین میں بھی مریضوں کو الگ تھلگ رکھا گیا ہے۔ حتیٰ کہ ان کے قریبی عزیزوں کو بھی ان سے ملنے کی اجازت نہیں ہے۔ پاکستان سمیت کئی ممالک نے چین سے اپنی فلائٹس بھی عارضی طور پر معطل کر دی ہیں۔ چین کے ساتھ کاروباری معاہدوں پر بھی کئی ملک نظرثانی کر رہے ہیں۔ ایران میں اٹھارہ ہلاکتیں اس وائرس کی وجہ سے ہو چکی ہیں جس کے بعد پاکستان نے بھی ایران سے واپس آنے والے پاکستانی زائرین کی مکمل چیکنگ کے بعد ہی انہیں داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان میں ابھی تک ایک بھی کورونا وائرس کا کنفرم کیس نہیں ہے؛ تاہم اس کے خطرات یہاں ضرور منڈلا رہے ہیں۔ خدانخواستہ یہاں یہ وائرس آ گیا تو اسے سنبھالنا مشکل ہو جائے گاکہ یہاں تو پولیو اور دیگر بیماریوں پر ہی کنٹرول مشکل ہو پایا ہے یہ تو پھر کمبخت قسم کا وائرس ہے‘ جو چین جیسے ملک کے بھی قابو میں نہیں آ رہا۔ کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ یہ وائرس دنیا کا خاتمہ کرنے آیا ہے۔ جس تیزی کے ساتھ یہ پھیل رہا ہے اگر صورتحال یہی رہی تو اگلے چند ماہ بعد بین الاقوامی پروازوں پر پابندی لگ جائے گی۔ کسی ملک سے کوئی مسافر دوسرے ملک میں نہیں جا سکے گا۔ سب جس حال میں ہیں جہاں ہیں کی بنیاد پر وہیں مقیم ہو جائیں گے۔ ہر ملک اپنی گندم اناج سب کچھ اپنے ملک میں ذخیرہ کر لے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ وقت گزارا جا سکے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ کتنی دیر ممکن ہو گا کیونکہ یہاں تو آف سیزن میں ٹماٹر نہ ملیں تو باہر سے منگوانے پڑتے ہیں اور وہ تین سو روپے فی کلو تک پہنچ جاتے ہیں۔ جب درآمدات برآمدات ہی بند ہو جائیں گی تو پھر اشیائے خورونوش کی کس قدر قلت ہو جائے گی اور اس کی قیمتیں کتنی ہوشربا ہو جائیں گی اس کا اندازہ کرتے ہوئے بھی خوف آتا ہے۔
عالمی مالیاتی فنڈ نے کورونا وائرس کی وبا عالمی معیشت کیلئے مزید خطرناک قرار دے دی ہے۔ پہلے سے ہی کمزور عالمی معیشت کو مہلک کورونا وائرس کی وبا سے مزید خطرہ لاحق ہو گیا ہے اور عالمی سطح پر صحت سے متعلق ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ فلسطین کا سب سے بڑا شہر اور تجارتی مرکز الخلیل چین میں کورونا وائرس کی جنم بھومی سے چار ہزار میل دور ہے‘ لیکن اس کے اثرات وہاں بھی ظاہر ہو رہے ہیں۔ اس کے بازار چین کی سستی اشیا سے بھرے رہتے ہیں‘ لیکن اب فلسطینی تاجروں کو خدشہ ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے چین سے مال کی رسد رک سکتی ہے۔ اس صورت میں انہیں دوسرے مقامات سے سامان منگوانا پڑے گا جو مہنگا ہونے کے سبب صارفین کی پہنچ سے دور ہو گا یا تاجروں کے منافع میں کمی کا باعث بنے گا۔
وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔ چین میں بارہ ہزار افراد اس وائرس سے جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ غیرملکی طیارے چین کی طرف جانے سے کترانے لگے ہیں۔ کل کو یہ وائرس کسی اور ملک میں پھیل گیا تو اس کا بھی یہی حال ہو گا۔ کورونا وائرس کی وجہ سے عالمی سطح پر لین دین کے معاملات متاثر ہونے سے عام لوگوں کی زندگیوں پر بھی فرق پڑا ہے۔ وائرس کو جلد قابو نہ کیا گیا تو عالمی اداروں سے ملازمین کی بڑی تعداد میں چھانٹیوں کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے کیونکہ ہر کاروبار طلب و رسد کی بنیاد پر چلتا ہے۔ جب طلب ہی نہ رہے تو رسد کا سلسلہ کب تک جاری رہ سکتا ہے۔ امریکہ دو طیاروں کے ذریعے اپنے شہریوں کو کب کا واپس لے جا چکا ہے۔ دیگر ممالک بھی اسی کوشش میں ہیں۔ چین میں اس وقت جس چیز کی سب سے زیادہ مانگ ہے وہ چہرے پر پہننے والے ماسک ہیں جس کی وجہ سے اس وائرس کے پھیلائو میں کمی آتی ہے۔ چین میں سموگ کی وجہ سے پہلے بھی ہر کوئی باہر نکلتے وقت ماسک لگاتا ہے۔ اب تو کسی شخص کا چہرہ ماسک کے بغیر گھروں اور عمارتوں کے اندر بھی دکھائی نہیں دیتا۔ لوگوں کو بار بار ہاتھ دھونے اور صاف ستھرا رہنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ جس شخص کو ایک دو چھینکیں آ جائیں یا کھانسی ہو جائے سب اس شخص سے ڈر کر بھاگنے لگتے ہیں۔ اس صورتحال کی وجہ سے متاثرہ علاقوں کے رہائشی نفسیاتی مریض بن رہے ہیں۔ پاکستان کو اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے پوری تیاری کرنا ہو گی۔ ہمارے ہاں صحت کی جو صورتحال ہے جو وسائل ہیں وہ سب کے سامنے ہیں۔ بہتر یہی ہو گا کہ زیادہ بلکہ سارا زور اس وائرس کو آنے سے روکنے پر ہی لگا دیا جائے کیونکہ جس وائرس نے چین کی لکیریں نکلوا دی ہیں اس کے سامنے ترقی پذیر ممالک کیا حیثیت رکھتے ہیں؛ تاہم اس وائرس نے دنیا کی ترقی کا پول کھول دیا ہے۔ ایک طرف آٹومیشن کا دور دورہ ہے‘ خودکار جہاز‘ گاڑیاں اور نت نئے روبوٹس ایجاد ہو رہے ہیں‘ انسانوں کی جگہ مشینری لے رہی ہے اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے دماغ ایجاد کیے جا رہے ہیں‘ چاند اور مریخ پر شہر بسانے کی باتیں ہو رہی ہیں‘ ٹمپریچر کنٹرولڈ شہر بنانے کے تجربات کئے جا رہے ہیں دوسری طرف ایک وائرس ہے جو آتا ہے اور دنیا کی ساری کی ساری ترقی‘ آٹومیشن اور ٹیکنالوجی کو تہ و بالا کر دیتا ہے۔ انسان غور کرے تو اس کیلئے ان حالات و واقعات میں بہت سے اسباق پوشیدہ ہیں۔ ایک طرف دنیا کی طاقتور ترین معیشتیں ہیں‘ دوسری طرف ایک وائرس ہے جو ان معیشتوں اور ان سے جڑے اربوں انسانوں کی زندگیوں کیلئے خطرہ بن چکا ہے۔ انسان‘ ادارے یا ملک کتنے ہی طاقتور ہو جائیں یہ کبھی بھی قدرت سے نہیں جیت سکتے۔ زلزلے سے بچنے کیلئے جتنی چاہے مضبوط عمارتیں کھڑی کر لیں یہ قدرت کا پھر بھی مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ جب اس قسم کی آفات آتی ہیں تو طاقتور ممالک اور شخصیات کو ان کی حیثیت معلوم ہو جاتی ہے کہ وہ کتنے پانی میں ہیں۔ یہ کس قسم کی سپر پاورز ہیں یہ انہیں قدرتی آفات اور مشکلات کے وقت پتہ چلتا ہے۔ اس وائرس نے ثابت کر دیا چین ہو یا امریکہ‘ برطانیہ ہو یا روس‘ ان سب کی ترقی‘ ٹیکنالوجی اور مضبوط معیشتیں ریت کے ایسے محل کے سوا کچھ نہیں جسے ایک وائرس محض ایک پھونک سے اڑا سکتا ہے۔ ان ترقی یافتہ ممالک‘مضبوط ترین معیشتوں اور نام نہاد سپر پاورز کی حقیقت بس اتنی سی ہے۔

 

Top