1. Saad Sheikh
    9

    Saad Sheikh Founder Staff Member


    جوانی میں شادیاں کیوں نہیں کرتے؟


    Jawani mein shadi.

    آج ایک بڑے اہم معاشرتی مسئلے پر ڈسکشن شروع کررہا ہوں، بات تو ترک صدر نے چھیڑی ہے مگر میرے خیال میں ترکی سے زیادہ پاکستانی معاشرہ تباہی سے دوچار ہے۔ جس معاشرے میں نکاح کی بجائے بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ کا کلچر پروان چڑ ھ جائے وہاں پھر معاشرے ایسے ہی تباہ ہوتے ہیں۔جو اپنے لئے دن میں لکڑیوں کا انتظام نہیں کرتے وہ رات اندھیرے میں گزارتے ہیں۔

    تعلیم،غربت، بےروزگاری، جهیز، حسب نسب،خاندان، ذات پات، مكان ، خوبصورتی ۔۔۔ ایک نکاح کی راہ میں اس جیسی نہ جانے کتنی رکاوٹیں کھڑی کردی گئی ہیں کہ آج کا نوجوان آسان سے نکاح کے بجائے گناہ اور بے راہ روی کو ترجیح دے رہا ہے۔ آج کا سب سے اہم ایشو جس کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتا، جس کی وجہ سے ملک میں معاشرتی مسائل کا انبار لگا ہوا ہے۔۔ آئے دن ریپ کی خبریں، گرل فرینڈ بوائے فرینڈ کے اغوأ قتل بلیک میلنگ کے قصےمیڈیا کی زینت بن رہے ہیں۔۔ سوشل میڈیا پر اخلاق سے گری تصاویر اور ویڈیوز لیک ہورہی ہیں۔۔ اسکول کالج یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبا و طالبات کے عشق اور معاشقے اور ریپ بلیک میلنگ کے واقعات اب عام سی بات لگتی ہے۔۔ دینی مدارس کے اساتذہ تک گھناؤنے فعل میں ملوث پائے جا رہے ہیں۔ یہ ہمارا’’اسلامی ‘‘ معاشرہ یورپ سے بھی بدتر ہوتا جارہا ہے۔

    مگر سوال یہ ہے کہ معاشرے کے بڑے بزرگ اتنے اہم ایشو کو کیسے نطر انداز کیے جارہے ہیں؟ کیوں اولاد کی شادیاں وقت پر نہیں کررہے؟اسلامی شعائر سے دوری اور دینی تعلیم کی کمی اس معاملے کو گھمبیر بنا رہی ہے ۔میڈیا اپنا کردار ادا کر سکتا ہے لیکن اپنی ریٹنگ کے چکروں میں غیر ملکی طاقتوں کا آلہ کار بنا رہتا ہے۔حکومت موثر قانون سازی کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرسکتی ہے مگر اسے کرپشن اور چور سپاہی کے کھیل سے فرصت نہیں۔

    اسلام نے تو سادگی کا کہا ہے ۔جن کو اللہ پر یقین ہے اللہ ہر قسم کی سہولت فراہم کردیتا ہے۔آج سے 50 سال پہلے یہ فکریں یہ مسئلے یہ رسمیں کب شادی کی راہ میں رکاوٹ بنتی تھیں؟ لڑکی جوان ہوتے ہی شادی، جیسے سورہ بقرہ میں ذکر ہے، اور لڑکے بالغ جو کہ 18
    -20 سال تک ہوکر شادی کے بعد اپنے اولاد، گھر، والدین کی فکر میں کامیاب محنت کیا کرتے۔

    آج لڑکیوں کے والدین بھی لڑکوں میں تعلیم، تہذیب اور اچھے اخلاق کے بجائے پیسہ، جاب، کاروبار، گاڑی اور مکان دیکھتے ہیں۔ لڑکوں کے والدین کو بھی حور پری اور پھر بھاری جہیز چاہیے۔ معاشرے میں بہت سے مسائل اس ایک مسئلے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔

    والدین سے گزارش ہے خدارا، اپنی اولاد کی شادیاں جلدی کریں، کیونکہ جب انسان کو بھوک لگتی ہےتو حلال رزق نہ ملے تو وہ حرام کھانا شروع کردیتا ہے۔ غیروں نے اتنی غلاظت ذہنوں میں بھردی کہ اب قرآن اور نبی پاک ﷺ کا فرمان سمجھ میں نہیں آرہا۔


    ghilazat.

    @Recently Active Users @Recently Joined Users
    آپ اس اہم مسئلے کے بارے میں کیا کہنا چاہیں گے؟
    اور آپ کے پاس کیا تجاویز ہیں؟
    ہمارے پڑھے لکھے طبقے کے لوگ بھی کیوں اس مسئلے کو نظر انداز کئے ہوئے ہیں؟ کیا انہیں اس مسئلے کی سنگینی کا ادراک و احساس نہیں؟
     
    Tags:
    Falak, Chulbul, Veer and 1 other person like this.
  2. Maria-Noor
    3

    Maria-Noor New Member I Love Reading

    سنگینی تو تحریر میں لکھ دی گئی ہے اب تو عملدرآمد ہونا چاہئے اور باقاعدہ اسے ابتدائی تعلیم میں اہمیت دینی چاہیے صرف نقصانات پر بحث سے معاملات حل نہیں ہوں گے......
     
    Chulbul and Veer like this.
  3. Chulbul
    4

    Chulbul Well-Known Pakistani

    Shadi ki umar bhi zaroorat bhi magar shadi nai karni line marni ... Ye ho ra aj kal Twitter Fb Insta WhatsApp pe....

    foto_no_exif.
     
  4. Razi AFsaar Khan
    2

    Razi AFsaar Khan New Member

    bahut Umdah Tehrir, Allah PaK Perents Aur Digar baIkhtiya Hukkam Ko Amal Ki Taufeeq Ata Farmaye. ( Aameen
     
Loading...