Ghazal Kahay kon usay patanga jo hai Sholay par Dhuwan saa

sahrish khan

Star Pakistani
I Love Reading
Level
11
Awards
24
کرم ان کا خود ہے بڑھ کر مری حد التجا سے
مجھے سوء ظن نہیں ہے کہ دعا کروں خدا سے
دل مطمئن کی وسعت کوئی کم ہے ماسوا سے
مجھے کاہے کی کمی ہے جو طلب کروں خدا سے
ہوئی ختم غم کی آندھی وہی دل کی لو ہے اب بھی
یہی شعلہ تھا وہ شعلہ کہ لڑا کیا ہوا سے
کہے کون اسے پتنگا جو ہے شعلے پر دھواں سا
تجھے لے اڑے ہیں کتنا ترے پر ذرا ذرا سے
جو ہے سب کا دینے والا میں اسی کو چاہتا ہوں
مری بھیک وہ نہیں ہے کہ ملے کسی گدا سے
یہ ہے قصر زندگانی کہ حباب بحر فانی
ابھی بن گیا ہوا سے ابھی مٹ گیا ہوا سے
یہ خیال خود ہے ایسا جو خوشی بنا دے غم کو
کہ ہے ابتدا خوشی کی مرے غم کی انتہا سے
مرا دل رضا پہ راضی کرم اس کا جوش پر ہے
جو اب آ گئی زباں تک تو اثر گیا دعا سے
مری لاکھ منتوں پر تری اک حیا ہے بھاری
کوئی پردہ ہے وہ پردہ کہ ہلے ڈلے ہوا سے
ترے پاکباز الفت نہیں ہارنے کے ہمت
جو مریں گے ڈوب کر بھی تو مریں گے رہ کے پیاسے
کسی دل کی آس یوں بھی کبھی آرزوؔ نہ ٹوٹے
یہ کہے بنی ہے دم پر وہ کہے مری بلا سے
آرزو لکھنوی
 

Top