Liberalism Kya Hai? The Meaning of Liberalism

intelligent086

intelligent086

Star Pakistani
7,471
14,543
981
لبرل ازم کیا ہے؟ ....... ثوبان تابش

لبرل ازم، سیکولر ازم، لبرل فاشزم (جس کو متنازعہ سمجھا جاتا ہے) اور ان کے مقابلے میں روایت پسند، قدامت پسند، شدت پسند وغیرہ ایک بہت طولانی موضوع ہے، جس پر بلامبالغہ کتابیں لکھی جاسکتی ہیں تاہم اس مختصر مضمون میں سوشل میڈیائی لبرلوں کی اصل پہچان کرانا مقصد ہے۔
لفظ “لبرل” قدیم روم کی Latin زبان کے لفظ “لائبر ” یا ” لیبر” یا پھر اسی لفظ کے ایک مترادف “لائبرالس” سے نکلا ہے۔ جس کا مطلب “جسمانی طور پر آزاد شخص” ہے۔ یعنی ایسا انسان جو کسی کا غلام نہ ہو ۔ یہ معنی اٹھارہویں صدی تک رہا اور ہر آزاد شخص کو لبرل کہا جاتا رہا۔ اٹھارہویں صدی میں اس کے معنیٰ میں یہ تبدیلی آگئی کہ “فکری” طور پر آزاد شخص کو لبرل کہا جانے لگا یعنی ایسا شخص جو مذہب کی پابندیوں کو نہ مانے اور اپنی فکر میں آزادی کا دعوے دار ہو۔
یہاں یہ بات سمجھ لیجیے کہ مذہب سے بغاوت کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی؟
کسی بھی “الہامی مذہب” پر انگلیاں تب ہی اٹھتی ہیں جب مذہب کی الہامی تعلیمات میں انسان ساختہ تعلیمات کی ملاوٹ ہوجائے، ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالات کے جواب نہ مل سکیں۔مثال کے طور پر عیسائیت کو لیجیے، لبرل ازم دراصل ” عیسائیت” کی کوکھ سے جنم لینے والا وہ ناجائز بچہ ہے جس کی بنیاد مذہبی تعلیمات سے مطمئن نہ ہونا تھا۔ عیسائیت کا عقیدہ ہے کہ تمام انسان پیدئشی گنہگار ہیں، کیونکہ آدم نے جنت میں اللہ کا حکم نہ مانا تھا۔ انگلستان کےمشہور فلسفی جان لاک 1620-1704 نے اسی مذہبی عقیدے سے بغاوت پر مشتمل اپنا خود ساختہ فلسفہ قائم کیا کہ انسان کیسے گنہگار ہو سکتا ہے جبکہ آدم کے گناہ میں باقی انسانوں کا کوئی قصور نہ تھا۔ چنانچہ مذہبی عقائد پر شک وشبے نے جنم لینا شروع کیا جو بالآخر مذہب کو دیوار سے لگانے پر اختتام پذیر ہوا۔
لبرل ازم کے دو اصول اس کی اسا س ہیں۔ آزادی اور مساوات۔
آزادی سے مراد نہ صرف جسمانی آزادی بلکہ فکری آزادی بھی ہے۔چنانچہ لبرل کسی بھی نظریے ، مذہب یا فلسفے پر اپنی رائے میں آزاد ہے۔تاہم چونکہ وہ مساوات کا علم بردار ہے اس لیے وہ دنیا کے ہر انسان کو باشعور سمجھتا ہے اور مساوات کے اصول کے اس کے نظریات کا احترام کرتا ہے۔
یہ ایک متاثرکن، خوش نما اور پر کشش تعریف ہے۔لیکن اگر تھوڑا گہرائی میں دیکھا جائے تو یہ فلسفہ انسانوں کو غلام بنانے سے بھی زیادہ ہولناک ہے۔ لبرل ازم ہر انسان کو عقلمند اور باشعور سمجھتا ہے اور اسے اپنی زندگی گزارنے اور اپنے اصول خود متعین کرنے کا درس دیتا ہے۔ مگر ہر انسان واقعی باشعور اور عقلمند نہیں ہوتا۔وہ اپنی زندگی گزارنے کے لیے ان لبرلز کے قائم کردہ اصولوں پر آنکھ بند کرکے پیروی کرتا ہے حالانکہ وہ خود کو آزاد بھی سمجھ رہا ہوتا ہے۔
اسلام فرد کی بے مہار آزادی کا قائل نہیں بلکہ “ذمہ داری” کا قائل ہے، اسلام میں ہر شخص اپنے اعمال اور کاموں کا ذمہ دار ہے۔ یہ احساس ذمہ داری ایک بہترین معاشرہ تشکیل دینے میں بے حد معاون ثابت ہوتا ہے جس کے نتیجے میں مساوات ، عدل، رواداری اور کئی معاشرتی خوبیاں خود بخود شامل ہوجاتی ہیں۔
مشہور ہسپانوی فلسفی Jose Ortega Y Gasset نے اپنی کتاب The revolt of the masses میں لبرل کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے،
“ایثار اور سخاوت کی آخری حد کو لبرل ازم کہتے ہیں، اپنے کمزور دشمنوں کے ساتھ اشتراک وجود کے عزم کا اظہار لبرل ازم ہے”
امریکی مصنف رابرٹ فراسٹ کے مطابق ” لبرل اس کشادہ ذہن آدمی کو کہتے ہیں جو مخالف کی گالیاں آرام اور سکون سے سہہ لیتا ہے کیونکہ اس کا دماغ مطمئن ہوتا ہےوہ جمود کا شکار نہیں ہوتا اور لڑائی میں بھی صرف دلائل دینے سے غرض رکھتا ہے ”
اس تعریف سے یہ معلوم ہوا کہ جو شخص بحث ومباحثے میں حوصلہ ہار کر گالیوں پر اتر آئے اسے لبرل ازم کی ہوا بھی نہیں لگی۔
آکسفورڈ ڈکشنری کے مطابق لبرل میں درج ذیل چیزوں کا پایا جانا اشد ضروری ہے۔
فیاض، سخی، بردبار، روادار، فراخدل، بے تعصب، حریت پسند، غیر قدامت پسند
لیکن یہاں سوشل میڈیا پر دیسی لبرلوں کو دیکھیے،
ان کے کالم پڑھیے، ان کے میڈیا پر بیانات کا تجزیہ کیجیے،
ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پاکستان میں لبرل ازم کا صرف ایک ہی مقصد ہے ، “اسلام کو ڈی گریڈ کرنے کے لیے ہر ممکنہ کوشش کرنا”۔ یہ لبرل جو خود لبرل ازم کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ثابت ہوچکے ہیں، ان کے لہجوں میں چھپی نفرت اور ان کے لفظوں میں بجھے زہرکا مشاہدہ کیجیے اور پھر خود سے پوچھیے “کیا یہ لوگ رواداری، فیاضی اور غیر متعصبانہ رویوں کے امام ہو سکتے ہیں”
جو مخالف کی ذاتی تنقید سے گھبرا کر سیدھامقدس ہستیوں کی گندی اور ننگی توہین پر اتر آئیں
اور مقدس ہستیاں بھی وہ جو کروڑوں انسانوں کو دنیا کی ہرچیز سے زیادہ پیاری ہیں، ان کے متعلق غلیظ ترین زبان استعمال کرنا کہاں کا لبرل ازم ہے؟
اگر کوئی شخص خود کو حقیقی لبرل سمجھتا ہے تو اسے چاہیئے کہ سب سے پہلے اپنی صفوں میں چھپی ان کالی بھیڑوں کا سراغ لگائے جو ذاتی تنقید کا بدلہ مخالف کی عظیم شخصیات پر بکواسات کرنے سے لیتا ہے، اور پھربھی خود کو لبرل کہلواتا ہے۔
اگر لبرل ازم کی یہی تعریف ہے تو میرے خیال میں مسلمان ان لبرلوں سے سو گنا زیادہ لبرل اور اسلام لبرل ازم سے ہزار گنا زیادہ برداشت سکھاتا ہے۔

 

Maria-Noor

Maria-Noor

Popular Pakistani
I Love Reading
4,263
7,403
456
@intelligent086
بہت عمدہ انتخاب
شیئر کرنے کا شکریہ
 
intelligent086

intelligent086

Star Pakistani
7,471
14,543
981
@Maria-Noor
پسند اور رائے کا شکریہ
جزاک اللہ خیراً کثیرا​
 
Maria-Noor

Maria-Noor

Popular Pakistani
I Love Reading
4,263
7,403
456
@intelligent086
وَأَنْتُمْ فَجَزَاكُمُ اللَّهُ خَيْرًا
 

Create an account or login to comment

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

Similar threads

Abdullah Nazeer
    • Haha
    • Wow
  • Abdullah Nazeer
  • 3
  • 101
Replies
3
Views
101
Abdullah Nazeer
Abdullah Nazeer
intelligent086
    • Like
  • intelligent086
  • 13
  • 188
2
Replies
13
Views
188
intelligent086
intelligent086
G
Replies
2
Views
1K
Saad Sheikh
Saad Sheikh
G
  • Guest Visitor
  • 0
  • 344
Replies
0
Views
344
Guest Visitor
G
intelligent086
Replies
6
Views
84
intelligent086
intelligent086
Top
AdBlock Detected
Your browser is blocking advertisements. We're strongly asking to disable ad blocker while you're browsing in Pakistan.web.pk. You may not be aware but any visitor supports our site by just viewing and visiting ads.

آپ کے ویب براؤزر میں ایڈ بلاکر انسٹال ہے، مہربانی کرکے اسے پاکستان ویب پر ڈس ایبل رکھیں ۔ شاید آپ کو معلوم نہ ہو مگر سپانسر اشتہارات کو دیکھ کر ہی آپ پاکستان ویب کو سپورٹ کرتے ہیں۔ سپانسر اشتہارات سے ویب سائٹ کے اخراجات ادا کرنے میں تھوڑی سی ہی سہی مگر مدد ملتی ہے، اس لئے ابھی اپنے براؤزر کی آپشنز میں جاکر ایڈ بلاکر بند کر دیں، شکریہ

I've Disabled AdBlock    No Thanks