Adabi Mazameen Maa to Maa Hoti hai By Saeed Ahmad

intelligent086

Popular Pakistani
Level
9
Awards
23
ماں تو ماں ہو تی ہے۔۔۔۔۔ سعید احمد

maa.jpg
عرب کا ایک مشہور ڈاکو فضیل ایک دن اپنی ماں کے پاس اپنے مکان میں سویا ہوا تھا۔ آدھی رات کا وقت تھا۔ ماں کو پیاس لگی۔ ماں نے بیٹے سے کہا :مجھے پانی پلائو‘ بیٹا اٹھا‘ گھڑے میں دیکھا ‘ تو وہ خالی تھا۔ بیٹے نے گھڑا اُٹھایا‘ پائوں میں جوتا بھی نہیں پہنا اور گھر سے قریباً 3کلو میٹر پر پانی کا کنواں تھا‘ آدھی رات کو کنویں سے پانی بھرا اور واپس آیا‘ ایک پیالے میں پانی ڈالا اور اپنی ماں کے پاس گیا‘ تو دیکھا کہ ماں سو رہی تھی۔ اس نے ماں کو جگایا نہیں اور سرہانے کھڑا ہو گیا‘ یہ سوچ کر کے بزرگوں کی نیند کمزور ہوتی ہے‘ کھل جائے تو دوبارہ نیند مشکل آتی ہے ‘کچھ دیر بعد ماں کی آنکھ کھلی تو دیکھا بیٹا سرہانے کھڑا ہے‘ ہاتھ میں پانی کا پیالا ہے۔ ماں اٹھی تو بتایا کہ گھر میں پانی نہیں تھا‘ کنویں سے لے کر آیا ہوں۔ ماں نے پانی پیا ‘اللہ کا شکر ادا کیا اور بیٹے کو دعا دی؛ جا بیٹا! اللہ تجھے اپنا دوست بنائے‘ کچھ عرصہ بعد عرب کے کسی گائوں کے دو حاجی کعبۃ اللہ کے طواف سے فارغ ہوئے ۔ایک حاجی دوسرے کو کہتا ہے کہ گھر چلے ؟دوسرا کہنے لگا؛ ابھی نہیں جانا‘ رات کاوقت ہے‘ آگے فضیل ڈاکو ہمیں لوٹ لے گا۔ حاجی اپنی گفتگو کر رہے تھے کہ ایک بندہ‘ جو ساتھ بیٹھا تھا‘ بولا: آپ آسانی سے چلے جائو‘اللہ نے فضیل کو ہدایت دے دی ہے‘ وہ فضیل میں ہی ہوں‘ ماں کی دعا سے آج اللہ کے گھر میں بیٹھا ہوں۔ جب حضرت موسیٰ ؑ نے اللہ تعالیٰ سے پوچھا :یا اللہ میرا جنت کا ہمسایہ کون ہے تو اللہ تعالیٰ نے کہا؛ فلاں قصاب‘تو موسیٰ علیہ السلام ایک دن قصاب کے مہمان بنے‘ اس کے گھر گئے اورتو کچھ نہیں دیکھا‘ ایک بو ڑھی خاتون بیٹھی تھی‘ جس کو قصاب نے اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلایا اور کھانے کے بعد اس نے ہونٹ سے کچھ کہا تو موسیٰؑ نے قصاب سے پوچھا؛ بوڑھی ماں کیا کہتی ہے؟تو قصائی نے کہا ؛بیچاری بوڑھی ہے‘ جب ہی میں کھانا کھلاتا ہوں تو مجھے دعائیں دیتی ہے؛ اللہ تجھے جنت میں موسیٰؑ کا ہمسایہ بنائے‘ کہاں میں اور کہاں حضرت موسیٰ!۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا؛ اللہ تعالی نے آپ کی ماں کی دعا قبول فرمالی ہے‘ میں ہی موسیٰ ہوں۔ ماں تو پھر ماں ہوتی ہے‘ میرے ابا جان 1996ء میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے‘ میں اس وقت آٹھویں کلاس کا طالبعلم تھا‘ ہم سات بہن بھائی ہیں۔ دو کی شادی ہوئی تھی تو والد کا سایہ اٹھ گیا‘ ہماری والدہ نے بہت محنت کر کے ہمیں پڑھایا‘ ہم زمین دار ہیں‘ ہماری کچھ زمین تھی‘ والدہ نے ایک مرلہ بھی فروخت نہیں کیا ‘اپنی زندگی کو مشکل میں ڈال کر ہماری پرورش کی۔ تمام بہن بھائیوں کی شادی کی اور ہر طرح کی سہولت اپنے بچوں کو دی میں انٹر کر کے لاہور آگیا ‘ایک پرائیویٹ ادارے میں ملازمت اختیار کی‘ جب بھی میں گھر جاتا ‘ماں کی خدمت کرتا‘ ماں کی دعائیں لیتا‘ تو ماں ہمیشہ کہتی: اللہ تعالی تمہیں بہت بڑا افسر بنائے اور اللہ تم کو اتنا رزق دے‘ جتنا دریا میں پانی ہے اور میں ہمیشہ مسکراتا‘ ماں یہ کیسی دعاہے۔ چلتے چلتے اللہ تعالیٰ نے میری ماں کی دعا کو قبول کیا‘ اللہ نے مجھے اپنے ڈیپارٹمنٹ کا مینیجر بنا دیا۔ ڈیڑھ برس قبل ماں کا ڈائلسز ہو رہا تھا اور ہفتے میں دو مرتبہ میں انہیں گائوں سے لاہور لاتا۔ چند ہفتے قبل میں سویا ہوا تھا‘ رات کو تین بجے ‘میرے فون کی گھنٹی بجی‘ میں نے دیکھا‘ میرے چھوٹے بھائی شبیر کا فون آرہا تھا‘ فون دیکھتے ہی میرا جسم کانپنے لگا‘ جب کال اٹینڈ کی تو بہن اور بھائی رو رہے تھے کہ امی‘ اللہ کے پاس جا چکی ہیں۔ اللہ اکبر!۔اللہ سب کے ماں باپ‘ خصوصاً مائوں کو ہمیشہ سلامت رکھے ۔ پیارے نبیؐ نے فرمایا:اگر تم نماز کیلئے کھڑا ہو ‘تب بھی اگر تمہاری ماں تمہیں آواز دے‘ تو لبیک کہو۔ یہ پیغام ہمارے لیے ہے کہ ماں کی قدر کرو‘ جتنی کر سکتے ہو۔ بعد میں موقع نہیں ملے گا اور ساری زندگی پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ہو گا۔
 

Top