Quran Hadith Quran Kareem Par amal nijaat , flah aur tarqi ka raasta By Muhammad Yunus Palan Puri

intelligent086

Popular Pakistani
Level
9
Awards
23
قرآن کریم پر عمل نجات، فلاح اور ترقی کا راستہ ....... تحریر : مفتی محمد یونس پالن پوری

quranp.jpg
وَمَنْ دَعَآ اِلَیْہِ ھُدِیَ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ:اور جو شخص لوگوں کو قرآن پر ایمان اور اس کے احکام پر عمل کی دعوت دیتا ہے تو خود اسے صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق ہوتی ہے اور جن کو وہ دعوت دیتا ہے وہ بھی صراطِ مستقیم پر چلنے لگتے ہیں۔
حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ حضرت رسول اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ:ترجمہ: ''اللہ تعالیٰ اس کتاب (قرآن کریم ) کے ذریعے بہت سی قوتوں کو اونچا اُٹھاتے ہیں، اور دوسری قوموں کو اس ( پر عمل نہ کرنے) کی وجہ سے نیچے گراتے ہیں۔‘‘
تاریخ شاہد ہے کہ جب تک مسلمان قرآن پاک کی پاکیزہ تعلیمات اور ارشادات نبویﷺ پر زندگی کے تمام شعبوں میں عمل کرتے رہے، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ایسی ترقی اور ایسا عروج عطا فرمایا جس کی نظیر پیش کرنے سے تمام اقوام عالم قاصر ہیں، اور آج مسلمان کتاب و سنت کو چھوڑ کر ذلیل وخوار ہو رہے ہیں۔ حضرت علیؓسے مروی ہے کہ آپؓ نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے،''اے لوگو! آگاہ ہو جائو، عنقریب ایک فتنہ برپا ہونے والا ہے‘‘۔
حضرت علیؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا: ''یارسول اللہﷺ! اس فتنہ سے چھٹکارے کی راہ کیا ہے؟‘‘۔ اس پر آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ:''اس سے حفاظت کا ذریعہ قرآن کریم ہے، اس کے اندر تم سے پہلے لوگوں کے حالات کا ذکر ہے اور تمہارے بعد قیامت تک آنے والے اُمور اور حالات کی خبر ہے، اور تمہارے باہمی معاملات کے فیصلہ کا حکم اس میں موجود ہے اور قرآن کریم حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والی کتاب ہے، اس میں کوئی بات مذاق کی نہیں ہے، جو شخص غرور اور فخر کی وجہ سے قرآن کو ترک کر دیتا ہے، اللہ اس کو ہلاک اور برباد کرتا ہے، اور جو شخص قرآن کے علاوہ کسی اور چیز میں ہدایت ڈھونڈتا ہے اللہ اس کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اور قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی مضبوط ترین رسی ہے اور وہ حق تعالیٰ کو یاد دلانے والی کتاب ہے، حکمت و دانائی عطا کرنے والی ہے اور وہی سیدھا راستہ ہے اور وہ ایسی کتاب ہے کہ اس کے اتباع کے ساتھ خواہشات نفسانی حق سے ہٹا کر دوسری طرف مائل نہیں کر سکتیں۔ اس کی زبان ایسی ہے کہ اس کے ساتھ دوسری زبانیں مشابہ نہیں ہو سکتیں اور اس کے علوم سے علماء کی تشنگی نہیں بجھتی، وہ کثرت استعمال اور بار بار تکرار سے پرانا نہیں ہوتا اور اس کے عجائبات ختم نہیں ہوتے۔ قرآن ایسا کلام ہے کہ جب جنات نے اس کو سنا تو بلا توقف کہا کہ ہم نے ایک عجیب وغریب قرآن سنا ہے جو ہدایت کا راستہ دکھلاتا ہے، لہٰذا ہم اس پر ایمان لے آئے جو قرآن کے مطابق بات کرے اس کی تصدیق کی جاتی ہے اور جو قرآن پر عمل کرے اس کو عظیم ترین ثواب دیاجاتاہے اور جس نے قرآن کے مطابق فیصلہ کیا اس نے انصاف کیا، اور جو قرآن کریم کی طرف لوگوں کو بلاتا ہے اس کو سیدھے راستہ کی توفیق بخشی گئی ہے۔‘‘
فِیْہِ نَـبَاُ مَا قَبْلَـــــــکُمْ: قرآن کریم کے اندر پچھلی قوموں اور پچھلی اُمتوں کے اچھے برے واقعات اور احوال کا ذکر ہے، چنانچہ اس میں حضرت آدمؑ اور ان کے بیٹے قابیل و ہابیل کا واقعہ، حضرت ادریسؑ کے احوال، حضرت نوحؑ اور ان کی قوم کے واقعات اور حضرت ابراہیمؑ اور نمرود کا واقعہ، حضرت لوطؑ اور ان کی قوم کا واقعہ، حضرت ہودؑ اور قوم عادؑ کے واقعات، حضرت صالحؑ اور قوم ثمود کے واقعات، حضرت یونسؑ کا واقعہ، حضرت ایوبؑ کا واقعہ، حضرت اسمٰعیلؑ کا واقعہ، حضرت اسحٰقؑ کا واقعہ، حضرت یعقوبؑ کا واقعہ، حضرت یوسفؑ اور ان کے بھائیوں کا واقعہ، حضرت یوسفؑ اور عزیز مصر کا واقعہ، حضرت موسیٰؑ اور فرعون کا واقعہ، حضرت دائودؑ اور حضرت سلیمانؑ کے احوال، حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت خضرؑ کا واقعہ، اصحابِ کہف اور ذوالقرنین کے واقعات، حضرت مریمؓاور حضرت عیسیٰؑ کے واقعات، قارون وہامان وشداد اور ظالم بادشاہوں کے واقعات، غرضیکہ ہر قوم کے ہر قسم کے اچھے برے بے شمار واقعات قرآن مجید میں موجود ہیں، جن کو پڑھ کر لوگ سبق حاصل کرسکتے ہیں۔ کہیں مسلمانوں اور کفار کے واقعات اور اپنی قدرت کاملہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ترجمہ: ''بے شک اس میں بصیرت والوں کیلئے بڑی عبرت کی بات ہے۔‘‘اور کہیں حضرت یوسفؑ اور ان کے بھائیوں کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ترجمہ: ''یقینا ان کے واقعات اور قصوں میں عقل مند لوگوں کے لیے بڑی عبرت ہے۔‘‘(سورئہ یوسف : ۱۱۱)
اور کہیں حضرت موسیٰؑ اور فرعون کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا،ترجمہ : ''یقینا اس میں ڈرنے والوں کے لیے بڑی عبرت ہے۔‘‘ (سورۃ الناز عات: آیت ۲۶)
وَحُکْمَ مَابَیْنَـــــکُمْ:قرآن کریم کے اندر تمہارے بعد پیش آنے والے واقعات قیامت کی علامات اور قیامت کے احوال کا ذکر ہے، حساب وکتاب، جنت و جہنم کے احوال کا ذکر ہے۔ ان سے عبرت حاصل کر کے اپنے اعمال درست کرنے کی ضرورت ہے۔ قرآن کریم کے اندر تمہارے آپس کے معاملات کے طے کرنے اور فیصلہ کرنے کا حکم موجود ہے۔ قرآن کریم میں ۶۶۶۶ آیتیں ہیں، ان میں ۵۰۰ آیتیں احکام اور فیصلوں سے متعلق ہیں۔ بعض علماء نے ان پانچ سو آیتوں کی الگ سے بھی تفسیر لکھی ہے۔ قرآن کریم حق وباطل کے درمیان فیصلہ اور امتیاز پیدا کرنے والی کتاب ہے، اسی کو اللہ تعالیٰ نے سورۃ طارق میں {اِنَّہٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌ} (سورئہ الطارق: آیت ۱۳) سے ارشاد فرمایا کہ قرآن کریم حق و باطل اور صدق وکذب کے درمیان دو ٹوک فیصلہ ہے ۔
وَمَنِ ابْتَغَی الْھُدٰی فِیْ غَیْرِہٖ اَضَلَّہُ اللّٰہُ:اور جو شخص قرآن کو چھوڑ کر دوسری چیز سے ہدایت طلب کرے گا اس کو اللہ تعالیٰ گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے وہ ہدایت پر قائم نہیں رہ سکتا۔
وَھُوَ جَبْلُ اللّٰہِ الْمَتِیْنُ:قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی ایک مضبوط ترین رسی ہے اللہ اور بندوں کے درمیان ایک مضبوط ترین تعلق اور جوڑ پیدا کرنے کی چیز ہے اور قرآن کے ذریعے سے ہی انسان اللہ تعالیٰ کی مرضی حاصل کر سکتاہے ، اسی کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ان الفاظ سے ارشاد فرمایا ہے:
وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّ لَاتَفَرَّ قُوْا (سورۃ آل عمران: ۱۰۳) ترجمہ: ''اللہ کی رسی کو تم سب مل کر ایک ساتھ مضبوطی سے پکڑ لو اور آپس میں پھوٹ نہ ڈالو۔‘‘
وَھُوَ الذِّکْرُ الْحَکِیْمُ: وہی حق تعالیٰ کو یاد کرنے کا ذریعہ ہے جو حکمت ودانائی کا اہل بناتا ہے، اس میں اچھی نصیحتیں ہیں اسی کو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں قرآن کریم میں ذکر فرمایا ہے: ترجمہ :'' آپ مومنین کو اچھی نصیحتوں سے اللہ کی یاد دہانی کراتے رہا کریں، اس سے مومنین کو دینی فائدہ پہنچتا رہے گا۔ ‘‘ (سورۃ الذاریات: آیت ۵۵)
وَھُوَ الصِّرَاطُ الْمُسْتَقِیْمُ:قرآن کریم انسان کو سیدھے راستہ اور اعتدال پر قائم رکھتاہے اور افراط وتفریط سے محفوظ رکھتا ہے، او ر صراط ِ مستقیم کی حضرت رسول اللہﷺ نے ایک مثال پیش فرمائی کہ ایک لمبا خط کھینچا، اس کے دائیں اور بائیں طرف سارے خطوط کھینچے اور فرمایا یہ سب کے سب گمراہی اور شیطان کے راستے ہیں جو ان میں پڑے گا گمراہی میں مبتلا ہو جائے گا، اور جوان سے بچے گا وہ سیدھے راستہ پر قائم رہے گا اور جو لمبا خط کھینچا ہے اس کے بارے میں فرمایا یہ صراط مستقیم ہے اسی پر تمہیں قائم رہنا ہے اور بعض روایات میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ صراط مستقیم وہی ہے جو قرآن وحدیث کے مطابق ہے اسی پر حضرات صحابہ کرامؓ، خلفائے راشدینؓ، آئمہؒ مجتہدین ثابت قدمی سے چلے آرہے ہیں اور اسی کی بقاء اور اسی کی تبلیغ کے لیے مدارس اسلامیہ کا قیام ہوا ہے او را ن مدارس کے اندر قرآن وحدیث اور فقہ کی جو تعلیم دی جاتی ہے وہ صراطِ مستقیم کے مطابق ہے ۔
وَھُوَ الَّذِیْ لَا یُزِیْغُ بِہِ الْاَ ھْوَائُ:جو شخص قرآن کی تعلیمات پر قائم رہے گا تو چاہے کتنی ہی خواہشات اسے ستائیں اور کتنی ہی گمراہی کی باتیں اسے راستہ سے ہٹا کر ٹیڑھا کرنے کی کوشش کریں، شیطان اور گمراہ لوگ اسے اپنے راستے پر لے جانے کی کوشش کریں تو قرآن اسے ادھر جانے اور ٹیڑھا ہونے نہیں دے گا۔ جب بھی وہ ٹیڑھا چلنا چاہے گا اور لائن سے ہٹنا چاہے گا، قرآن اسے سیدھا کردے گا اور لائن سے نیچے اترنے نہیں دے گا۔ ہر طرف سے دائیں بائیں کے سارے راستے جام کر دیتا ہے، مجبوراً سیدھے راستہ پر قائم رہے گا۔
وَلَا تَلْتَبِسُ بِہِ الْاَلْسِنَۃُ:دنیا کی کوئی زبان قرآن کی زبان کے مشابہ نہیں ہے۔ اہل عرب اگرچہ عربی بولتے ہیں مگر قرآن کے لہجے اور قرآن کے محاورے اور قرآن کی فصاحت وبلاغت اور قرآن کے طرز وسلامت میں سے ان کی زبان کسی بھی چیز کے مشابہ نہیں ہے ۔ وہ اپنی گفتگو میں قرآن کی ایک آیت کے مشابہ بھی کوئی جملہ نہیں نکال سکتے ۔ جب قرآن نازل ہورہاتھا تو وہ عرب کے بڑے بڑے شعراء اور خطباء اور ادبا ء کا دور تھا انہوں نے بڑی کوشش کی کہ قرآن کی چھوٹی سے چھوٹی ایک آیت کے مشابہ کوئی جملہ بنا کر پیش کر دیں، مگر سب نے اس سے عاجز آکر گھٹنے ٹیک دیئے اور سمجھ لیا کہ یہ انسان کا کلام نہیں ہوسکتا اس لیے کوئی بھی زبان قرآن کے مشابہ نہیں ہوسکتی ۔
وَلَا تَشْبَعُ مِنْہُ الْعُلَمَآئُ:قرآن کریم کے علوم سے علماء کے پیٹ کبھی نہیں بھرتے ۔ قرآن کریم میںجتنا غور کرتے جائو اس کے اسرار ورموز بڑھتے جاتے ہیں تو ان کی تشنگی بھی بڑھتی جاتی ہے ، وہ کبھی آسودہ نہیں ہوتے ۔ آج پندرہ سوسال سے علماء قرآن کریم کے اسرار ورموز پر اور اس کے مطالب کی گہرائی پر غور کرتے رہے اور ہزاروں اور لاکھوں اور کروڑوں کی تعداد میں کتابیں لکھی جاچکی ہیں مگر قرآن کے علوم اور اس کے اسرار ورموز کے ہزارویں حصہ تک بھی رسائی نہ کرسکے اور نہ ہی رسائی ہوسکتی ہے۔
بخاری، مسلم اور ترمذی میں ایک لمبی حدیث ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس عبارت کے ذریعے ایک پورے واقعہ کی طرف اشارہ ہے کہ زمانہ اسلام سے پہلے شیاطین آسمانوں میںجاکر وہاں کی باتیں لا کر کاہنوں کو پیش کیا کرتے تھے، پھر کاہن لوگ اس میںکچھ بڑھا چڑھا کر لوگوں کے سامنے پیش کرتے تھے اور کاہن لوگ جو پیشین گوئیاں کیا کرتے تھے ۔
جب اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو مبعوث فرمایا اور قرآن کریم کے نزول کا سلسلہ شروع ہوگیا تو شیاطین پر آسمان میںجانے پر پابندی لگادی گئی۔ جنات نے حجازِ مقدس میں مکۃ المکرمہ سے شمالی جانب مدینے کی طرف ایک مقام ہے جس کا نام عکاظ ہے ۔ ایک زمانہ میں خاص خاص ایام میں وہاں بازار لگاکرتاتھا اور ہر طرف سے عرب قبائل خرید و فروخت کے لیے جمع ہوتے تھے تو حضور اکرم ﷺ چند صحابہ کرامؓ کو لے کر دعوت اسلام پیش کرنے کی غرض سے عکاظ کے بازار کے لیے روانہ ہوگئے اور اس بازار میں پہنچنے سے کچھ پہلے ایک نخلستان میں آپﷺ نے قیام فرمایا اور وہاں رات گزاری پھر صبح کو فجر کی نماز میں جہری قرأت شروع فرما دی توجنات کی ایک ٹولی کا وہاں سے گزر ہوا۔وہ قرأت سن کر رک گئی ۔ اسی وقت جنات کی اس ٹولی نے ایمان قبول کرلیا۔



 

Angelaa

Popular Pakistani
Level
6
Awards
18
@intelligent086 بے شک....
رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا
''جب فتنے اندھیری رات کے تاریک حصوں کی طرح تمھارے لئے الجھنیں پیدا کردیں تو تمھیں قرآن ہی سے وابستہ رہنا چاہئے۔ اس لئے کہ قرآن شفاعت، کرنے والا ہے، اس کی شفاعت مقبول ہے۔ قرآن تصدیق شدہ مدبر ہے۔ جس نے اسے اپنے سامنے رکھا قرآن اسے جنت میں لے جائے گا اور جس نے قرآن کو پس پشت ڈال دیا وہ ایسے شخص کو جہنم میں پہنچا دے گا۔ وہ بہترین راستے کا رہنما ہے۔''
خود قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد ربانی ہے:
کتاب انزلناه الیک لتخرج الناس من الظلمات الی النور باذن ربهم الی صراط العزیز الحمید ( سوره ابراهیم١)
یہ کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف نازل کیا ہے، تاکہ پ لوگوں کو حکم خدا سے تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لے ئیں اور خدائے عزیز و حمید کے راستے پر لگادیں۔
حضرت علي عليہ السلام نے فرمايا:’
’’ياد رکھو!يہ قرآن (مجيد) وہ خير خواہ ناصح ہے جو کبھي دھوکا نيہں ديتا- وہ رہنما ہے جو کبھي گمراہ نہيں کرتا، وہ سخن گوہے جو کبھي جھوٹ نہيں بولتا- جو بھي قرآن کا ہم نشين ہوا وہ ہدايت کو بڑھا کر اور گمراہي کوگھٹا کر جاتا ہے-‘‘
 
Top