Dismiss Notice
Today's Birthdays
Pakistan.web.pk would like to wish Happy Birthday to all its members who celebrate their birthday today

  • Asad Rehman
  1. intelligent086
    7

    intelligent086 Popular Pakistani

    سر کپ : پاکستان میں یونانیوں کا بسایا شہر
    sircop.
    تحریر : سبط حسن
    جس چیز کو گندھارا آرٹ کا نام دیا جاتا ہے وہ دراصل آرین، یونانی، ساکا، پارتھی اور کُش تہذیبوں کا نچوڑ ہے۔ گندھارا آرٹ کو ہماری تہذیب میں بہت اہم مقام حاصل ہے۔ اس لیے کہ عربوں کی آمد سے پیشتر کی تہذیب کا سب سے حسین مرقع گندھارا آرٹ ہی ہے۔ گندھارا آرٹ کا مرکز یوں تو ٹیکسلا تھا، لیکن اس کی جڑیں پشاور، مردان، سوات، افغانستان حتیٰ کہ وسطی ایشیا تک پھیلی ہوئی تھیں۔ موریوں کے عہد تک جس بستی کو ٹیکسلا کہتے تھے اس کے کھنڈر بھیر کے مقام پر ملے ہیں۔ بھیر کی کھدائی میں سب سے نچلی تہہ میں نشانوں سے پتا چلتا ہے کہ بعض مکانات خوش حال لوگوں کے تھے اور بعض غریبوں کے اور دوسرے طبقے الگ الگ حصوں میں رہتے تھے۔ البتہ ہر گھر میں پچیس تیس فٹ گہر ایک چہ بچہ ہوتا تھا جس میں غلاظت پھینک دی جاتی تھی۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ شہر میں بھنگیوں یا اچھوتوں کا کوئی طبقہ نہ تھا۔ بستی میں ایک بہت بڑا کمرہ (ہال) تھا جس کی چھت ستونوں پر کھڑی تھی۔ اس جگہ سے مٹی کی بہت سی اُبھرواں مورتیاں ملی ہیں۔دوسری اور تیسری تہیں سکندر اور موریہ عہد کی ہیں۔ اس وقت تک لوہے کا استعمال بہت عام ہو چکا تھا۔ چنانچہ گھریلو استعمال کے برتن، کھیتی باڑی کے آلات و اوزار اور اسلحے سب لوہے کے بنے ملے ہیں۔ ان کے علاوہ چڑھاوے کی بکثرت ایسی تختیاں نکلی ہیں جن میں عورت مرد ساتھ کھڑے ہیں۔ باختر سے تجارت کے آثار بھی ملے ہیں۔ چوتھی یعنی سب سے بالائی سطح پر چاندی کے متعدد ٹھپہ دار سکے اور یونائی طلائی سکے، چاندی سونے کے زیور، یونانی بادیہ اور سکندر اعظم کے سر کی مورت ملی ہے۔
    sirkap1.JPG
    ٹیکسلا کی دوسری بستی سِرکپ کہلاتی ہے۔ اس کو دوسری صدی قبل مسیح میں یونانیوں نے آباد کیا تھا۔ یہ شہر تقریباً تین صدی تک یونانیوں، ساکاؤں، پارتھیوں اور ابتدائی کُشنوں کی راجدھانی رہا تھا۔ سِرکپ کی وجہ تسمیہ بارے کہتے ہیں کہ سیالکوٹ کے راجہ سالی وان کا بیٹا رِسالو ایک دن شہر کے باہر ہوا خوری کر رہا تھا۔ ٹہلتے ٹہلتے وہ ایک جھونپڑی کے سامنے سے گزرا تو کیا دیکھا ہے کہ ایک بڑھیا چولھے کے پاس بیٹھی گاہ ہنستی گاتی ہے اور گاہ رونے لگتی ہے۔ رِسالو کو بڑھیا کی اس حرکت پر بڑی حیرت ہوئی اور وہ بڑھیا کے پاس جا کر پوچھنے لگا کہ مائی کیا بات ہے جو تو کبھی گاتی اور ہنستی ہے اور کبھی رونے لگتی ہے۔ بڑھیا نے کہا کہ یہاں آدم خور راکششوں کا ایک گھرانا رہتا ہے۔ وہ سات بھائی بہن ہیں۔ بھائیوں کے نام سِرکپ، سِرسُکھ اور اَمبہ ہیں اور بہنوں کے انم کاپی، کالپی، منڈا اور منڈیبی ہیں۔ ہم کو ہر سال ایک جان ان کو بھینٹ دینا پڑتی ہے۔ میں ہنستی اور گاتی اس لیے ہوں کہ آج میرے بیٹے کا بیاہ ہے اور روتی اس لیے ہوں کہ کل راکشش اسے کھا جائیں گے۔ رِسالو نے بڑھیا کو دلاسا دیا اور جب دوسرے دن راکشش اس کے بیٹے کو کھانے آئے تو رِسالو نے ان کو قتل کر دیا۔ یونانیوں نے وادی سندھ میں دو ڈھائی سو برس تک حکومت کی۔ بھیرا اور سِرکپ کی کھدائی سے سیکڑوں یونانی سکے زیورات، آلات و اوزار عمارتوں کے کھنڈر سب کچھ برآمد ہوا لیکن کوئی نوشتہ نہ ملا۔ انہوں نے سرکپ کا نیا شہر یونانی شہروں کے نمونے پر بنایا تھا۔ لیکن بھیر کی مانند کنواں اس شہر میں بھی نہ تھا۔ ساکاؤں کے عہد کی عمارتوں میں ایک تو شاہی محل قابل ذکر ہے اور دوسرے دو منہ والے شاہین کی عبادت گاہ۔ محل کی دیواریں بالکل سپاٹ ہیں۔ ان میں کوئی نقش نگار نہیں ہے، اور وہ ساخت میں عراق کے اشوری محلوں سے مشابہ ہیں۔
    sirkap.JPG
    دو مُنھا شاہین یوں تو بابل، ایشیا اور اسپارٹا میں بھی شاہی اقتدار کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ لیکن بعد میں یہ علامت ساکاؤں سے مخصوص ہو گئی۔ چنانچہ انقلاب روس سے پہلے تک زار روس کا شاہی نشان رہی اور جرمنی میں یہ علامت دوسری جنگ عظیم تک رائج رہی۔ سِرکپ اور اس کے مضافات کی کھدائی میں سونے چاندی کے نہایت خوبصورت زیور اور سنگار کے سامان ملے ہیں۔ ان کے علاوہ بڑھیئوں، لوہاروں، سناروں اور جراحوں کے اوزار، پتھر کے اوزان، کھیتی باڑی اور باغبانی کے آلات، بچوں کے کھلونے، اسلحے، مورتیاں اور اُبھرواں شبیہیں، گنڈے تعویذ اور مالائیں، مہریں، سانچے اور دھات کے ٹپے بڑی تعداد میں برآمد ہوئے ہیں۔ ان چیزوں کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ سونے چاندی کے زیور اور ظروف تو یونانی طرز کے ہیں البتہ لوہے، پتھر اور مٹی کے سامانوں کی طرز خالص مقامی ہے۔ اس تفریق سے پتا چلتا ہے کہ یونانیوں اور ساکاؤں کے عہد میں ملک کے بالائی طبقے پر تو یونانی تہذیب کی چھاپ تھی لیکن عام ہنر مند بدستور پرانی ڈگر پر چلتے رہتے تھے۔ سِرکپ سے ملی ہوئی جانڈیال کے مقام پر یونانی عہد کی ایک یادگار عمارت ہے۔ یہ ایک عبادت گاہ ہے جو یونان کے خالص کلاسیکی انداز میں بنائی گئی تھی اور ایتھنز کی مشہور عبادت گاہ پارتھنیان کا ہوبہو چربہ ہے۔
     
    Tags:
    Falak, Maria-Noor and Veer like this.
  2. intelligent086
    7

    intelligent086 Popular Pakistani

  3. Maria-Noor
    6

    Maria-Noor Well-Known Pakistani I Love Reading

    @intelligent086
    مفید معلومات شیئر کرنے کا شکریہ
     
    Falak and intelligent086 like this.
  4. intelligent086
    7

    intelligent086 Popular Pakistani

    @Maria-Noor
    پسند اور جواب کا شکریہ
     
    Maria-Noor and Falak like this.
  5. Falak
    15

    Falak Super Star Pakistani I Love Reading

    @intelligent086 I have visited Sirkap remains....If i remember correctly it's something like 200 BC and amazingly DESIGNED LIKE ISLAMABAD... i think Islamabad was copied from Sirkap:)..Taxila city, which is synonymous with SirKap, has been mentioned by Greek philosopher Apollonius of Tyana of 1st Century AD as resembling Athens and Nineveh (Greek colony in present day Iraq).
    Thank you for sharing this with us bro....
     
    intelligent086 and Maria-Noor like this.
  6. Maria-Noor
    6

    Maria-Noor Well-Known Pakistani I Love Reading

  7. intelligent086
    7

    intelligent086 Popular Pakistani

  8. Maria-Noor
    6

    Maria-Noor Well-Known Pakistani I Love Reading

    @intelligent086 Habib Bhai Texla kafi time wahan rahe hain.......
    @Falak
     
    intelligent086 likes this.
  9. intelligent086
    7

    intelligent086 Popular Pakistani

    @Maria-Noor
    یہاں بتانے کی ضرورت؟ میرے وہاں رہنے اور ان کے جانے میں فرق ہے۔۔۔۔
     
    Maria-Noor likes this.
  10. Maria-Noor
    6

    Maria-Noor Well-Known Pakistani I Love Reading

    @intelligent086
    ان کی سیاحت اور آپ کے کام میں فرق ہے معزرت
     
    intelligent086 likes this.
Loading...