Special Court Verdict against Military Dictator Pervez Musharraf

Veer

Veer

Famous Pakistani
Staff member
27
 
Messages
35,543
Reaction score
45,341
Points
3,711
سنگین غداری کیس میں پرویز مشرف کو سزائے موت کا حکم
Former military dictator.jpg

تین ججز پر مشتمل خصوصی عدالت نے دو ایک کی اکثریت سے فیصلہ سنایا


اسلام آباد: خصوصی عدالت نے آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت ملک سے غداری کا جرم ثابت ہونے پر سابق صدر اور آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف کو سزائے موت سنادی۔

اسلام آباد میں جسٹس وقار احمد سیٹھ کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی عدالت نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کی۔ پراسیکیوٹر علی ضیاء باجوہ عدالت میں پیش ہوئے اور حکومت کی طرف سے پرویز مشرف کیخلاف فرد جرم میں ترمیم کی درخواست دائر کی۔

مزید افراد کو ملزم بنانے کی درخواست
حکومت نے سنگین غداری کیس میں مزید افراد کو ملزم بنانے کی درخواست کرتے ہوئے شوکت عزیز، عبدالحمید ڈوگر اور زاہد حامد کو ملزم بنانے کی استدعا کی۔ پراسیکیوٹر نے کہا کہ تمام ملزمان کا ٹرائل ایک ساتھ ہونا ضروری ہے، پرویز مشرف کے سہولت کاروں اور ساتھیوں کو بھی ملزم بنانا چاہتے ہیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ پرویز مشرف کی شریک ملزمان کی درخواست پر سپریم کورٹ بھی فیصلہ دے چکی، ترمیم شدہ چارج شیٹ دینے کیلئے دو ہفتے کی مہلت دی گئی تھی۔

حکومت کی نیت ٹھیک نہیں

جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ کیا حکومت پرویز مشرف کا ٹرائل تاخیر کا شکار کرنا چاہتی ہے؟، آپ نے مزید کسی کو ملزم بنانا ہے تو نیا مقدمہ دائر کر دیں، آج مقدمہ حتمی دلائل کیلئے مقرر تھا تو نئی درخواستیں آ گئیں، ساڑھے تین سال بعد ایسی درخواست آنے کا مطلب ہے کہ حکومت کی نیت ٹھیک نہیں، تین افراد کو ملزم بنایا تو حکومت سابق کابینہ اور کور کمانڈرز کو بھی ملزم بنانے کی درخواست لے آئے گی۔

جسٹس نذر اکبر نے پراسیکیوٹر سے کہا کہ آپ کا مقصد صرف آج کا دن گزارنا تھا، استغاثہ کو یہ بھی علم نہیں کہ عدالت میں درخواست کیسے دائر کی جاتی ہے۔ جسٹس وقار احمد سیٹھ نے استغاثہ سے کہا کہ اپنے حتمی دلائل شروع کرے لیکن پراسیکیوٹر نے کہا کہ عدالت حکومت کو درخواستیں دائر کرنے کا وقت دے۔

صرف سپریم کورٹ کے فیصلوں کے پابند ہیں

جسٹس وقار احمد سیٹھ نے کہا کہ آپ حتمی دلائل نہیں دے سکتے تو روسٹرم سے ہٹ جائیں۔ خصوصی عدالت کے ججز نے کہا کہ یہ عدالت صرف سپریم کورٹ کے فیصلوں کی پابند ہے، ہم اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے پابند نہیں ہیں۔

مشر ف کے وکیل رضا بشیر نے دلائل میں کہا کہ دفعہ 342 کا بیان ریکارڈ کرنے کے حوالے سے درخواست دائر کی ہے، پرویز مشرف کو فیئر ٹرائل کا حق ملنا ضروری ہے۔

جسٹس نذر اکبر نے کہا کہ پرویز مشرف چھ مرتبہ 342 کا بیان ریکارڈ کرانے کا موقع ضائع کر چکے، اس لیے سپریم کورٹ 342 کے بیان کا حق ختم کر چکی ہے، کیس میں استغاثہ اور مشرف کے وکیل دونوں ہی ملزم کا دفاع کر رہے ہیں۔

پھانسی کا فیصلہ

عدالت نے آئین توڑنے کا جرم ثابت ہونے پر مختصر فیصلہ سناتے ہوئے ملزم پرویز مشرف کو سزائے موت سنادی اور تفصیلی فیصلہ 48 گھنٹے میں سنایا جائے گا۔ تین ججز پر مشتمل خصوصی عدالت نے دو ایک کی اکثریت سے فیصلہ سنایا۔

پس منظر

بارہ اکتوبر 1999ء کو آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے ملک میں فوجی قانون نافذ کرکے وزیراعظم نواز شریف کو معزول کردیا اور 20 جون 2001ء کو صدارتی ریفرنڈم کے ذریعے صدر بن گئے۔

تین نومبر 2007 کو پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے آئین معطل اور میڈیا پر پابندی عائد کردی تھی جبکہ چیف جسٹس پاکستان افتخار چوہدری سمیت سپریم کورٹ اور تمام ہائی کورٹس کے جج صاحبان کو گھروں میں نظربند کردیا تھا۔

Article 6

پاکستان میں آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت آئین کو توڑنا اور اس کام میں مدد کرنا ریاست سے ’سنگین بغاوت‘ کا جرم ہے جس کی سزا پھانسی ہے۔

مقدمہ

مسلم لیگ (ن) نے 2013 میں پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کا مقدمہ درج کرایا تھا۔ ملزم پرویز مشرف خصوصی عدالت کے سامنے پیش ہونے سے گریز کرتے رہے اور صرف ایک مرتبہ ہی پیش ہوئے۔عدالت نے 31 مارچ 2014 کو ان پر غداری کی فردِ جرم عائد کی۔ 2016 کو وہ طبی بنیادوں پر علاج کے لیے بیرون ملک چلے گئے جس کے بعد سے وہ وطن واپس نہیں آئے۔

عدالت نے پرویز مشرف کی مسلسل غیر حاضری اور پیش نہ ہونے پر انہیں اشتہاری قرار دے کر ملک میں موجود ان کے تمام اثاثے ضبط کرلیے جس کے بعد آج 17 دسمبر 2019 کو انہیں سزائے موت سنائی گئی۔

@Recently Active Users
 

چھے سال مقدمہ چلنے کے بعد سزا ہوئی اور اب بھی کہا جا رہا ہے عجلت میں فیصلہ ہوا۔ ابھی دور کی بات تو نہیں جب محض چھے ماہ میں وقت کے وزیراعظم کے خلاف انہی عدالتوں سے فیصلے کروائے گئے تھے۔

دیر آید درست آید
آئین اور عوامی بالادستی کی طرف ایک بڑا قدم
بزور طاقت اس فیصلے کو تبدیل نہ کروایا گیا تو آئیندہ کسی مشرف کو آئین توڑنے کی جرات نہیں ہوگی۔
آج فوج میں غم و غصّہ پایا جارہا ہے کل کروڑوں عوام کے منتخب نمائندوں کے خلاف فیصلوں پر یہی فوج آئین اور قانون کی حکمرانی کا لیکچر دے رہی تھی تب آپ کو عوامی غم و غصّہ کا احساس نہیں ہوا تو آج چکھیں اس کا مزہ۔ اور پھر یہ فیصلہ آرمی بطور ادارہ کے خلاف ہرگز نہیں بلکہ فردواحد کے خلاف ہے۔ بجائے منفی باتوں کے اس فیصلے کے بعد آرمی کو بطور ادارہ چاہئے کہ کسی فردواحد کو اپنے حلف کی خلاف ورزی کرنے کی اجازت نہ دے۔
 
Back
Top