1. intelligent086
    9

    intelligent086 Popular Pakistani

    والدین کی اطاعت مصائب سے باعثِ نجات .... تحریر : عبدالمالک مجاہد

    parents.
    اسلام ہمارے اندر جو صفات پیداکرتااور ان میں مزید اضافہ کرتاہے‘ان میں والدین کی اطاعت بھی شامل ہے۔والدین کے ساتھ حسن سلوک‘ ان کے ساتھ پیار محبت‘ان کے کام آنا‘ان کی باتوں کو ہربات پرترجیح دینا‘ ان کی رضا حاصل کرنا‘ ان کی اطاعت کرناایسے کام ہیں کہ اللہ رب العزت بھی اس سے خوش ہوتے ہیں اور یہی تزکیہ نفس ہے۔ والدین کے ساتھ احسان کرنا ہے۔اگر دونوں میں سے ایک یا دونوں ہی بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اف تک نہیں کہنا نہ ہی انہیں جھڑکنا ہے۔ان کے ساتھ بڑی نرمی سے گفتگو کرنا ہے۔والدین کے سامنے محبت سے جھک کران کے لیے دعائیں کرنی ہیں کہ اے میرے رب ان پر رحم کر ‘ جس طرح انہوں نے بچپن میں میرے ساتھ رحم کیااور میری تربیت کی ہے۔


    ایک شخص نے اللہ کے رسولؐ سے دریافت کیا: اللہ کے رسولؐ! بتائیے میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟آپ نے فرمایا:تیری ماں۔اس نے پھر پوچھا: اس کے بعد؟ تو ارشاد ہوا: ’’تیری ماں‘‘ اس نے پھر پوچھا: اللہ کے رسولؐ! اس کے بعد کون ہے؟آپؐ نے پھر ارشاد فرمایا:’’تیری ماں‘‘چوتھی مرتبہ ارشاد ہوا: ’’تیراباپ‘‘۔
    والدین کے ساتھ حسن سلوک کے بے شمار واقعات ہیں مگر ایک مؤثر واقعہ میرے سامنے ہے۔آئیے اس واقعہ کو پڑھ کر اپنے ایمان کو تازہ کرتے ہیں۔
    اس واقعہ کو بیس پچیس سال تو گزر ہی چکے ہوں گے۔ایک بوڑھا باپ اپنے پچیس سالہ بیٹے کے ساتھ گھر میں بیٹھاباتیں کر رہا تھاکہ اچانک کسی نے دروازے پر دستک دی۔نوجوان اٹھا‘دروازہ کھولا توسامنے ایک اجنبی شخص نظر آیا۔اس کے چہر ے پر کرختگی اور ناراضگی کے آثار تھے۔نہ سلام نہ دعا‘وہ سیدھا اندر چلا آیا۔نوجوان کے والد کے چہرے پر پریشانی کے آثار نظرآرہے تھے۔اس آدمی نے آتے ہی اس بوڑھے سے کرخت لہجے میں کہا’’ میراقرض واپس کرو۔اگرتم نے فی الفور قرض واپس نہ کیاتوتمہارے لئے بہت براہوگا‘‘۔
    نوجوان نے اپنے والدکے پریشان چہرے کو دیکھاتو اسے بڑا دکھ ہوا۔اجنبی شخص اب بدتمیزی پراتر آیا تھا۔ نوجوان نے تھوڑا سا صبرکیا پھر اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا وہ اپنے والد کی توہین برداشت نہ کرسکا۔اس نے پوچھا بتاؤ میرے والد نے تمہارا کتنا قرض ادا کرنا ہے۔اس نے کہا کہ تمہارے والد نے میرے نوے ہزار ریال دینے ہیں۔نوجوان کہنے لگا اب تم نے میرے والد کو کچھ نہیں کہنابس اب یہ قرض میرے ذمہ رہاتم کوئی فکر نہ کرو۔
    بیٹا اپنے کمرے میں گیا۔ وہ کافی عرصہ سے اپنی شادی کے لیے پیسے جمع کررہا تھا۔اس کی ہونے والی دلہن اس کا انتظار کررہی تھی۔ وہ کافی عرصہ سے شادی کی تیاری میں مصروف تھا‘ بڑی مشکل سے اس نے ستائیس ہزار ریال جمع کیے تھے۔بس تھوڑی سی رقم مزید باقی تھی اور پھر اس نے اپنی دلہن کو گھر لے آناتھا۔
    میں اپنے والد کی توہین برداشت نہیں کرسکتا‘شادی پھر بھی ہوسکتی ہے‘اس نے سوچااور ستائیس ہزار ریال لاکر اس شخص کی جھولی میں ڈال دیے۔فی الحال یہ ستائیس ہزارریال پکڑو۔باقی رقم کے بارے میں فکر نہ کرو‘جلد ہی تمہیں مل جائے گی۔اس دوران نوجوان کا والد زور زور سے رونے لگا۔یہ خوشی کے آنسوتھے کہ میرا بیٹا اتنا فرمانبردار ہے۔باپ قرض خواہ سے کہنے لگا: یہ ستائیس ہزار میرے بیٹے کو واپس کردو۔اس نے بڑی محنت سے اپنی شادی کے لیے یہ رقم جمع کی ہے۔اس کا میرے قرض سے کچھ بھی لینادینانہیں۔اب نوجوان کی باری تھی۔اس نے قرض خواہ سے کہا: یہ رقم اپنے پاس رکھو‘میں باقی قرض بھی انشاء اللہ جلد ہی بندوبست کرکے تمہیں دے دوں گا۔ بس اب تم نے میرے والد کو تنگ نہیں کرنا۔بعدازاں نوجوان اٹھا اپنے والد کی پیشانی پربوسہ دیتے ہوئے کہنے لگا:بابا آپ کی عزت ‘آبرو‘ مرتبہ اور مقام اس رقم سے کہیں زیادہ ہے۔ آپ فکر نہ کریں‘ہر چیز کاوقت مقرر ہے‘میں بہت جلد اس کا قرض واپس کردوں گا۔بوڑھے نے کھڑے ہوکرفرط مسرت سے اپنے فرمانبردار بیٹے کو گلے لگایا‘روتے ہوئے کہنے لگا:میرے بیٹے اللہ تم سے راضی ہو جائے‘تمہیں عزت ،رفعت اورکامیابیاں عطا فرمائے۔اس نے اپنے ہاتھ آسمانوں کی طرف اٹھا دیے اورروروکراللہ کے حضور اپنے بیٹے کے لیے بہت ساری دعائیں کیں۔بیٹا بڑا ہی متقی، پرہیزگاراورفرمانبردارتھا۔اللہ رب العزت کاوعدہ ہے کہ وہ متقی انسان کو بہترین بدلہ عطا فرماتے اور وہاں سے رزق عطا فرماتے ہیں جو اس کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہوتا‘‘۔
    ایک یا دو دن کی بات ہے کہ نوجوان اپنی ڈیوٹی پر گیا‘ وہ اپنے کام میں مشغول تھاکہ اس کا ایک بڑا پرانا دوست ملنے کے لیے آگیا۔سلام دعا کے بعد اس کا دوست کہنے لگا: میں کل شہر کے بڑے تاجر کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔اس کے پاس ایک بہت بڑا پروجیکٹ ہے۔اس بڑے منصوبے کے لیے اسے ایک ایسے شخص کی ضرورت ہے جو نیک اورایماندارہواعلیٰ اخلاق والا‘اللہ کا خوف رکھنے والاہو اور اس کے ساتھ ساتھ اس کام کو بھی خوب سمجھتا ہو۔اس نے مجھ سے کہا: مجھے اس منصوبے کے لیے مذکورہ صفات کا حامل شخص درکار ہے۔میرے ذہن میں فوراً تمہارا خیال آگیا۔میں تمہیں ایک مدت سے جانتا ہوں۔میں نے اس تاجر کے سامنے تمہارا ذکر کیا اورکہا: تمہارے اندر یہ ساری صفات موجود ہیں تو اس نے کہاہے کہ: میری اس سے ملاقات کرواؤ۔لہذاتمہیں لینے آیا ہوں؛تاکہ تم اس تاجر سے ملاقات کرلو۔ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے رزق کے دروازے کھول دے۔
    نوجوان کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھاکہنے لگا: کل میرے والد نے میرے لیے ڈھیروں دعائیں کی تھیں‘لگتا ہے اللہ تعالیٰ نے میرے والد کی دعاؤں کو شرف قبولیت بخشاہے۔
    حدیث رسول ﷺ بھی ہے کہ ’’باپ کی دعا اپنی اولاد کے حق میں قبول ہوتی ہے۔‘‘اس کے بعددونوں دوست اس تاجر کے دفتر میں جا پہنچے۔تاجر نے اس نوجوان کا انٹرویولیا‘مختلف سوالات کیے۔اس نے دیکھاکہ یہ نوجوان اس منصب کے لیے مناسب ترین ہے۔اس کی تعلیم اور تجربہ ٹھیک ہے ‘کام کے مطابق ہے۔وہ اس نوجوان سے ملاقات کرکے بڑا مطمئن ہوا۔اس نے پوچھا: ’’تمہاری اس وقت تنخواہ کتنی ہے؟نوجوان نے بغیر چھپائے سچ سچ بتایادیاکہ میری حالیہ تنخواہ اتنی ریال ہے جوکہ بہت ہی کم تھی۔
    اب اس تاجرکی باری تھی‘کہنے لگاتم کل ہی سے نوکری جوائن کرسکتے ہو۔تم حالیہ نوکری سے استعفیٰ دے دو۔رہی تمہاری تنخواہ تو وہ پندرہ ہزار ریال مقرر کی جاتی ہے۔اس کے علاوہ تمہیں سیل پر کمیشن بھی ملے گاجو حسن کارکردگی کی بناء پر 10%تک جاسکتا ہے۔تین ماہ کی تنخواہ‘مکان کا کرایہ ‘نئے ماڈل کی گاڑی اور چھ ماہ کی ایڈوانس تنخواہ تاکہ تم اپنے گھریلو حالات درست کر سکو۔ بولو کیا تمہیں منظور ہے۔اس نوجوان نے یہ ساری آفرز سنیں تو بے اختیار رونے لگا۔بار بار کہنے لگا کہ ابشر بالخیر یا والدی’’اے میرے والدگرامی آپ کومبارک ہو‘‘۔تاجر اسے دیکھ رہا تھا‘اس نے سوال کیا کہ تمہارے رونے کی وجہ کیا ہے؟تب نوجوان نے دو دن پہلے ہونے والا سارا واقعہ بیان کیاکہ میراوالدمقروض تھا،قرض خواہ والد کوتنگ کررہاتھا،کس طرح اس نے ستائیس ہزار ریال قرض واپس کیا اور بقیہ کا وعدہ کیا۔تاجر اس نوجوان کی اپنے والد کے ساتھ محبت‘ایثاراور قربانی سے اتنا متاثراورخوش ہوا کہ کہنے لگا کہ تم نے ستائیس ہزار ریال اپنے والد کے قرض کے طورپر ادا کیے ہیں‘اب باقی قرض میں ادا کروں گا۔
    بظاہر دیکھا جائے تو یہ واقعہ بڑا محیر العقل ہے مگر اللہ تعالیٰ کے ہاں کسی چیز کی کمی نہیں۔اس لئے کہ نیکوکارفرمانبرداربندوں کے لئے ایسی جگہ سے رزق عطا فرماتا ہے کہ جہاں سے انسان کووہم وگمان بھی نہیں ہوتا۔
    اللہ کے رسول کے صحابی جاہمؓ بن عباس آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں۔نہایت ادب سے عرض کرتے ہیں ‘اللہ کے رسولؐ غزوہ میں شرکت کا ارادہ رکھتا ہوں۔آپؐ کی خدمت میں مشورہ کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ اللہ کے رسول نے دریافت فرمایا: ’’کیا تمہاری ماں زندہ ہے‘‘۔جاہمؓ عرض کرتے ہیں کہ ہاں وہ زندہ ہیں۔کائنات کے امام نے ارشاد فرمایاکہ’’جاؤ اپنی والدہ کی خدمت کرو کہ جنت اس کے قدموں تلے ہے‘‘۔
    عربی زبان میں والدین کی اطاعت اور فرمانبرداری کو’’ برالوالدین‘‘ کہا جاتا ہے۔’’البر‘‘ کا لغوی مفہوم صدق‘اطاعت اور اصلاح ہے۔البر کا الٹ’’ عقوق‘‘ ہے۔البر کا شرعی مفہوم بڑا وسیع ہے‘والدین کے ساتھ احسان کرنا‘جن معروف کاموں کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے ان کو پورا کرنا‘ والدین کی عزت کرنا‘ان کی اطاعت کرنا‘ان کی خوشنودی کا آرزومند رہنا‘اپنے آپ کو ان کی خدمت کے لیے وقف رکھنا‘ان کے ساتھ نرمی کرنا‘ان کی دیکھ بھال کرنا‘ان کی نافرمانی سے بچنا‘ان کو جو تکلیف اور پریشانی ہو اسے دور کرنا بھی شامل ہے۔

     
    Tags:
    Maria-Noor likes this.
  2. intelligent086
    9

    intelligent086 Popular Pakistani

  3. Maria-Noor
    8

    Maria-Noor Popular Pakistani I Love Reading

    @intelligent086
    ماشاءاللہ
    اہم اور مفید معلومات دینی معلومات شیئر کرنے کا شکریہ
     
    intelligent086 likes this.
  4. intelligent086
    9

    intelligent086 Popular Pakistani

    @Maria-Noor
    پسند اور رائے کا شکریہ
    جزاک اللہ خیراً کثیرا​
     
    Maria-Noor likes this.
  5. Maria-Noor
    8

    Maria-Noor Popular Pakistani I Love Reading

    @intelligent086
    وَأَنْتُمْ فَجَزَاكُمُ اللَّهُ خَيْرًا
     
    intelligent086 likes this.
  6. intelligent086
    9

    intelligent086 Popular Pakistani

Loading...